🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب قول الله تعالى: {يعرفونه كما يعرفون أبناءهم وإن فريقا منهم ليكتمون الحق وهم يعلمون} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) یہ ارشاد کہ ”اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3635
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ: لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ، فَقَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے یہ کہ ہم انہیں رسوا کریں اور انہیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ تورات لاؤ۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق جو آیت تھی اسے ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ اے محمد! عبداللہ بن سلام نے سچ کہا۔ بیشک تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رجم کے وقت دیکھا۔ یہودی مرد اس عورت پر جھکا پڑتا تھا۔ اس کو پتھروں کی مار سے بچاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3635]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ چند یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: تم رجم کے متعلق تورات میں کیا پاتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم انھیں رسوا کرتے ہیں اور انھیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو، تورات میں رجم کا حکم موجود ہے، چنانچہ وہ تورات لے آئے۔ اسے کھولا تو ایک شخص نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ دیا اور اس کے آگے پیچھے سے عبارت پڑھتا رہا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ پھر انھوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! انھوں نے (حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے) سچ فرمایا ہے، تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (بدکاروں) کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اس مرد کو دیکھا وہ عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس کے اوپر جھکا پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3635]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ , وَامْرَأَةٍ زَنَيَا , فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا قَرِيبًا مِنْ مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ".
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اپنے ہم مذہب ایک مرد اور عورت کا، جنہوں نے زنا کیا تھا، مقدمہ لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسجد کے نزدیک نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ کے پاس انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 1329]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرد اور عورت کو لے کر آئے جنہوں نے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ مسجد کے پاس جنازے پڑھانے کی جگہ کے قریب انہیں سنگسار کیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4556
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ:" كَيْفَ تَفْعَلُونَ بِمَنْ زَنَى مِنْكُمْ؟" قَالُوا: نُحَمِّمُهُمَا وَنَضْرِبُهُمَا، فَقَالَ:" لَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ الرَّجْمَ؟" فَقَالُوا: لَا نَجِدُ فِيهَا شَيْئًا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ، فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ سورة آل عمران آية 93، فَوَضَعَ مِدْرَاسُهَا الَّذِي يُدَرِّسُهَا مِنْهُمْ كَفَّهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَطَفِقَ يَقْرَأُ مَا دُونَ يَدِهِ وَمَا وَرَاءَهَا، وَلَا يَقْرَأُ آيَةَ الرَّجْمِ، فَنَزَعَ يَدَهُ عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ، قَالُوا: هِيَ آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا، فَرُجِمَا قَرِيبًا مِنْ حَيْثُ مَوْضِعُ الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ، فَرَأَيْتُ صَاحِبَهَا يَحْنِي عَلَيْهَا يَقِيهَا الْحِجَارَةَ.
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ کچھ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قبیلہ کے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا اگر تم میں سے کوئی زنا کرے تو تم اس کو کیا سزا دیتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس کا منہ کالا کر کے اسے مارتے پیٹتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا توریت میں رجم کا حکم نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے توریت میں رجم کا حکم نہیں دیکھا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بولے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، توریت لاؤ اور اسے پڑھو، اگر تم سچے ہو۔ (جب توریت لائی گئی) تو ان کے ایک بہت بڑے مدرس نے جو انہیں توریت کا درس دیا کرتا تھا، آیت رجم پر اپنی ہتھیلی رکھ لی اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا اور آیت رجم نہیں پڑھتا تھا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس کے ہاتھ کو آیت رجم سے ہٹا دیا اور اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ جب یہودیوں نے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ آیت رجم ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان دونوں کو مسجد نبوی کے قریب ہی جہاں جنازے لا کر رکھے جاتے تھے، رجم کر دیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس عورت کا ساتھی عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4556]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چند یہودی اپنے ایک مرد اور عورت کو لے کر حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم میں سے کوئی زنا کا مرتکب ہو تو تم اس سے کیا سلوک کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کا منہ کالا کر دیتے ہیں اور انہیں مارتے پیٹتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گویا ہوئے: کیا تمہیں تورات میں رجم کا حکم نہیں ملا؟ وہ کہنے لگے: ہمیں تو اس میں ایسا کوئی حکم نہیں ملا۔ اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے اور ان سے کہنے لگے: تم جھوٹے ہو۔ ﴿فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [سورة آل عمران: 93] تورات لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو۔ تورات لائی گئی تو ان کے بڑے مدرس نے، جو انہیں تورات پڑھایا کرتا تھا، اپنا ہاتھ آیتِ رجم پر رکھ دیا، پھر آگے پیچھے سے پڑھنے لگا اور آیتِ رجم نہیں پڑھتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آیتِ رجم سے اس کا ہاتھ کھینچا (ہٹایا) اور فرمایا: یہ کیا ہے؟ جب یہودیوں نے آیتِ رجم دیکھی تو کہنے لگے: واقعی یہ تو آیتِ رجم ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم جاری فرمایا اور انہیں قریب ہی مسجد کے پاس جہاں جنازے رکھے جاتے تھے رجم کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت کے آشنا کو دیکھا کہ وہ اپنے داشتہ کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکا جا رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4556]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ، قَدْ أَحْدَثَا جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُمْ: مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ، قَالُوا: إِنَّ أَحْبَارَنَا أَحْدَثُوا تَحْمِيمَ الْوَجْهِ وَالتَّجْبِيهَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: ادْعُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالتَّوْرَاةِ، فَأُتِيَ بِهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُابْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَإِذَا آيَةُ الرَّجْمِ تَحْتَ يَدِهِ: فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا". قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" فَرُجِمَا عِنْدَ الْبَلَاطِ، فَرَأَيْتُ الْيَهُودِيَّ أَجْنَأَ عَلَيْهَا".
ہم سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ (اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط (مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ) میں رجم کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6819]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تم اپنی کتاب (تورات) میں اس کی سزا کیا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارے علماء نے اس جرم کی سزا چہرے کو کالا کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرانا کی تجویز رکھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! انہیں تورات لانے کا کہیں۔ تورات لائی گئی تو ان میں سے ایک شخص نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس کے آگے پیچھے کی آیات پڑھنے لگا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ، کیا دیکھتے ہیں کہ آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان دونوں کو سنگسار کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہیں بلاط کے پاس رجم کیا گیا تھا۔ میں نے یہودی آشنا کو دیکھا کہ وہ اپنی داشتہ کو بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6819]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6840
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى" عَنْ الرَّجْمِ، فَقَالَ: رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَقَبْلَ النُّورِ أَمْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي؟"، تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْمُحَارِبِيُّ، وَعَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْمَائِدَةِ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے رجم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا، میں نے پوچھا سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد، انہوں نے بتلایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اس روایت کی متابعت علی بن مسہر، خالد بن عبداللہ المحاربی اور عبیدہ بن حمید نے شیبانی سے کی ہے اور بعض نے (سورۃ النور کے بجائے) سورۃ المائدہ کا ذکر کیا ہے لیکن پہلی روایت صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6840]
حضرت شیبانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے رجم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا۔ میں نے کہا: سورہ نور کے نزول سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ علی بن مسہر، خالد بن عبداللہ، محاربی اور عبیدہ بن حمید نے شیبانی سے روایت کرنے میں عبدالواحد کی متابعت کی ہے۔ ان میں سے کچھ نے سورہ مائدہ کا ذکر کیا اور پہلی بات صحیح تر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6840]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6841
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ؟ فَقَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، قَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَا". فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى، الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زناکاری کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور کوڑے لگاتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ تم جھوٹے ہو اس میں رجم کا حکم موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور کھولا۔ لیکن ان کے ایک شخص نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد کا حصہ پڑھ دیا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے رجم کی آیت موجود تھی۔ پھر انہوں نے کہا: اے محمد! آپ نے سچ فرمایا کہ اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دونوں رجم کئے گئے۔ میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کی کوشش میں اس پر جھکا رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6841]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی آئے اور انہوں نے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: رجم کے متعلق تم اپنی کتاب میں کیا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم انہیں ذلیل و خوار کرتے ہیں اور انہیں کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو کیونکہ تورات میں تو رجم کی سزا موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لے آئے۔ جب اسے کھولا تو ان میں سے ایک شخص نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس کا ماقبل اور مابعد پڑھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو دیکھا کہ اس میں آیتِ رجم موجود تھی۔ یہودیوں نے کہا: یا محمد! اس نے سچ کہا ہے، اس میں آیتِ رجم موجود ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (زانی اور زانیہ) کے متعلق حکم دیا تو انہیں سنگسار کر دیا گیا، میں نے دیکھا کہ وہ مرد اپنی داشتہ کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکا پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6841]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7332
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا، فَأَمَرَ بِهِمَا، فَرُجِمَا قَرِيبًا مِنْ حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ عِنْدَ الْمَسْجِدِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے رجم کا حکم دیا اور انہیں مسجد کی ایک جگہ کے قریب رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 7332]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے آپس میں زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کر دینے کا حکم دیا تو انہیں مسجد کے پاس اس جگہ رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 7332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7543
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ لِلْيَهُودِ: مَا تَصْنَعُونَ بِهِمَا؟، قَالُوا: نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَنُخْزِيهِمَا، قَالَ: فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ سورة آل عمران آية 93 فَجَاءُوا، فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَرْضَوْنَ: يَا أَعْوَرُ اقْرَأْ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَإِذَا فِيهِ آيَةُ الرَّجْمِ تَلُوحُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ عَلَيْهِمَا الرَّجْمَ وَلَكِنَّا نُكَاتِمُهُ بَيْنَنَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا فَرَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا الْحِجَارَةَ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت لائے گئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں رسوا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر توریت لاؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر تم سچے ہو چنانچہ وہ (توریت) لائے اور ایک شخص سے جس پر وہ مطمئن تھے کہا کہ اے اعور! پڑھو۔ چنانچہ اس نے پڑھا اور جب اس کے ایک مقام پر پہنچا تو اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس میں آیت رجم بالکل واضح طور پر موجود تھی، اس نے کہا: اے محمد! ان پر رجم کا حکم تو واقعی ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں۔ چنانچہ دونوں رجم کئے گئے، میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھکا پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 7543]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا: تم ایسے (مجرموں) کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں ذلیل و رسوا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس بات میں سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھ کر سناؤ۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور ایک آدمی سے جس پر وہ مطمئن تھے کہا: اے اعور! اسے پڑھ۔ چنانچہ اس نے پڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک مقام پر پہنچ کر اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم چمک رہی تھی۔ اس نے کہا: اے محمد! ان دونوں کے لیے رجم کا حکم تو واقعی ہے لیکن ہم اس حکم کو آپس میں چھپاتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دیکھا کہ زانی مرد اپنی داشتہ کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکا پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 7543]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں