صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب مناقب الزبير بن العوام:
باب: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3717
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ:" اسْتَخْلِفْ، قَالَ: وَقَالُوهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: عُثْمَانُ وَقَالُوا، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، قَالَ: فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور (زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3717]
حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی وبا پھیلی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اس قدر نکسیر پھوٹی کہ انہیں حج سے اس مرض نے روک دیا، انہوں نے وصیت کر دی۔ ان کی خدمت میں ایک قریشی صاحب آئے اور عرض کیا: ”آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا لوگوں کی یہ خواہش ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے پوچھا: ”میں کس کو خلیفہ نامزد کروں؟“ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد کوئی دوسرے صاحب آئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ ”آپ کسی کو خلیفہ نامزد کریں۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا یہ سب لوگوں کی رائے ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ نے پوچھا: ”وہ کون ہو سکتا ہے؟“ اس پر وہ خاموش ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”غالباً لوگوں کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف رجحان ہو گا؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے علم کے مطابق بھی وہ ان سب سے بہتر ہیں، بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سب سے زیادہ محبوب تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3717]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3718
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي , سَمِعْتُ مَرْوَانَ، كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ، قَالَ: وَقِيلَ ذَاكَ، قَالَ: نَعَمْ الزُّبَيْرُ، قَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ ثَلَاثًا".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ میں نے مروان سے سنا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے،۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں، زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے، آپ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے، تم کو بھی معلوم ہے کہ وہ تم میں بہتر ہیں، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3718]
حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا۔ ایک شخص نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ”آپ کسی کو اپنا خلیفہ نامزد کریں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم سب جانتے ہو کہ وہ تم میں اس منصب کے لیے بہتر اور لائق ہیں۔“ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة