🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب الصلاة على الحصير:
باب: بورئیے پر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 380
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ لَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا فَلِأُصَلِّ لَكُمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفَفْتُ وَالْيَتِيمَ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ ان کی نانی ملیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا تیار کر کے کھانے کے لیے بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے بعد فرمایا کہ آؤ تمہیں نماز پڑھا دوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے گھر سے ایک بوریا اٹھایا جو کثرت استعمال سے کالا ہو گیا تھا۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے (اسی بورئیے پر) کھڑے ہوئے اور میں اور ایک یتیم (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابوضمیرہ کے لڑکے ضمیرہ) آپ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہو گئے اور بوڑھی عورت (انس کی نانی ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اور واپس گھر تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 380]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کے لیے دعوت دی جو انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ تناول فرمایا، پھر فرمانے لگے: کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک چٹائی کو اٹھایا جو کثرتِ استعمال کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی، اسے پانی سے دھویا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہو گئے۔ میں نے اور ایک چھوٹے بچے نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ فراغت کے بعد آپ واپس تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 727
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بتلایا کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے (ضمیرہ بن ابی ضمیرہ) نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 727]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور ہمارے گھر میں رہنے والے ایک یتیم لڑکے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہم سب کے پیچھے تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 727]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَ:" قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ، فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْيَتِيمُ مَعِي وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ".
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ (ان کی ماں) اسحاق کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ضیافت تیار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر فرمایا کہ چلو میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ ہمارے یہاں ایک بوریا تھا جو پرانا ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پانی سے صاف کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور (پیچھے) میرے ساتھ یتیم لڑکا (ضمیرہ بن سعد) کھڑا ہوا۔ میری بوڑھی دادی (ملیکہ ام سلیم) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 860]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو! میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ چنانچہ میں ایک چٹائی لینے کے لیے اٹھا جو دیر تک پڑے رہنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک یتیم بچہ میرے ساتھ اور وہ بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 860]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقُمْتُ وَيَتِيمٌ خَلْفَهُ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری ماں) ام سلیم کے گھر میں نماز پڑھائی۔ میں اور یتیم مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 871]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں نماز پڑھی تو میں اور ایک یتیم لڑکا آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، جبکہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے صف بندی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 871]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 874
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقُمْتُ وَيَتِيمٌ خَلْفَهُ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری ماں) ام سلیم کے گھر میں نماز پڑھائی۔ میں اور یتیم مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 874]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1164
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:"صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہمارے گھر میں جب دعوت میں آئے تھے) دو رکعت نماز پڑھائی اور پھر واپس تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1164]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر واپس تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں