🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب إسلام أبى ذر رضي الله عنه:
باب: ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3861
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ , وَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي , فَانْطَلَقَ الْأَخُ حَتَّى قَدِمَهُ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَقَالَ لَهُ: رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ، فَقَالَ: مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ , فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ بَعْضُ اللَّيْلِ , فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ , فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ , ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَا يَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَمْسَى , فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ، فَقَالَ: أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ , فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ , فَعَادَ عَلِيٌّ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَأَقَامَ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ، قَالَ: إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ , فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ، قَالَ: فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتْبَعْنِي , فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ , فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتْبَعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي , فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي"، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ , فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , ثُمَّ قَامَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ , وَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، قَالَ:" وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تِجَارِكُمْ إِلَى الشَّأْمِ , فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ لِمِثْلِهَا , فَضَرَبُوهُ وَثَارُوا إِلَيْهِ فَأَكَبَّ الْعَبَّاسُ عَلَيْهِ".
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے مثنیٰ نے، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔ میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی، آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے، مسجد الحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجئے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجد الحرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں (راستے میں) کوئی ایسی بات دیکھوں گا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ (کسی دیوار کے قریب) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے (تو پھر ہمارے پاس آ جانا) ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد الحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے اس طرح سے ان سے ان کو بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد الحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی اس دن بھی عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3861]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق علم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی (مکہ) جانے کے لیے سواری تیار کرو اور اس آدمی کے متعلق مجھے معلومات فراہم کرو جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا، پھر میرے پاس آنا، چنانچہ ان کا بھائی وہاں سے روانہ ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر واپس آیا اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے وہ لوگوں کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا جو ارادہ تھا تو نے مجھے اس کے متعلق مطمئن نہیں کیا۔ آخر انہوں نے خود رختِ سفر باندھا۔ انہوں نے اپنے ساتھ زادِ سفر اور پانی کا مشکیزہ لیا اور مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مسجد حرام میں حاضری دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے لگے جبکہ وہ آپ کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ کے متعلق پوچھنا بھی مناسب خیال نہ کیا۔ کچھ رات گزر گئی۔ وہ لیٹے ہوئے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان (کے کہنے پر ان) کے پیچھے پیچھے چلنے لگے (پھر ان کے ہاں رات بھر ٹھہرے) لیکن کسی نے ایک دوسرے کے متعلق کوئی بات نہ کی حتی کہ صبح ہو گئی۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا زادِ سفر اور مشکیزہ اٹھا کر مسجد حرام میں آ گئے اور سارا دن مسجد میں رہے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے حتی کہ شام ہو گئی۔ وہ سونے کی تیاری کرنے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا وہ سمجھ گئے کہ ابھی انہیں اپنی منزلِ مقصود نہیں مل سکی۔ وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات نہ کی۔ جب تیسرا دن ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ وہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے پوچھا: کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم میری رہنمائی کرنے کا پورا پورا وعدہ کرو تو میں بیان کرتا ہوں، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے وعدہ کر لیا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اچھا اب صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے چلنا۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات دیکھی جس سے مجھے آپ کے متعلق کوئی خطرہ ہوا تو میں کھڑا ہو جاؤں گا، گویا میں نے پیشاب کرنا ہے اور اگر میں چلتا رہوں تو تم بھی میرے پیچھے چلتے رہو حتی کہ جہاں میں داخل ہوں وہاں چلے آنا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہے حتی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور وہیں مسلمان ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اب تم اپنی قوم میں واپس جاؤ، انہیں خبردار کرو، حتی کہ تمہارے پاس میرا کوئی دوسرا حکم آ جائے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان مشرکین میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا، چنانچہ وہ وہاں سے مسجد حرام آئے اور بآواز بلند کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں (سخت) مارا اور بہت نقصان پہنچایا۔ اس دوران میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آئے اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ پر جھک پڑے اور فرمانے لگے: تمہاری ہلاکت ہو! تم جانتے نہیں ہو کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور تمہارے تاجروں کے شام جانے کا راستہ اسی طرف ہے؟ اس طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان سے بچایا۔ دوسرے دن پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا تو لوگوں نے انہیں بہت مارا اور سارے کافر ان پر ٹوٹ پڑے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر جھک پڑے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3861]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3522
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ , وَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي , فَانْطَلَقَ الْأَخُ حَتَّى قَدِمَهُ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَقَالَ لَهُ: رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ، فَقَالَ: مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ , فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ بَعْضُ اللَّيْلِ , فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ , فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ , ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَا يَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَمْسَى , فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ، فَقَالَ: أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ , فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ , فَعَادَ عَلِيٌّ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَأَقَامَ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ، قَالَ: إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ , فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ، قَالَ: فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتْبَعْنِي , فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ , فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتْبَعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي , فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي"، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ , فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , ثُمَّ قَامَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ , وَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، قَالَ:" وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تِجَارِكُمْ إِلَى الشَّأْمِ , فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ لِمِثْلِهَا , فَضَرَبُوهُ وَثَارُوا إِلَيْهِ فَأَكَبَّ الْعَبَّاسُ عَلَيْهِ".
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے مثنیٰ نے، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے، میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی۔ آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے۔ مسجد الحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے، علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا آپ میرے گھر چل کر آرام کیجئے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجد الحرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے انہیں اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں (راستے میں) کوئی ایسی بات دیکھوں جس سے مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا (کسی دیوار کے قریب) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے۔ اس وقت تم میرا انتظار مت کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے (تو پھر ہمارے پاس آ جانا)۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد الحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا «أشهد أن لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وأن محمدا رسول الله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی ان پر سارا مجمع ٹوٹ پڑا اور سب نے انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے کو ڈال کر قریش سے انہوں نے کہا افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے، اس طرح سے ان سے ان کو بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد الحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگے۔ اس دن بھی عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3522]
ابوحمزہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کی خبر نہ دوں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قبیلہ غفار کا ایک شخص تھا۔ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو نبوت کا مدعی ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا: تم جا کر ان سے ملاقات کرو اور ان سے گفتگو کر کے مجھے حقیقتِ حال سے آگاہ کرو، چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ پھر واپس آئے تو میں نے ان سے کہا: بتاؤ کیا خبر لائے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جو اچھی بات کا حکم دیتا ہے اور بری بات سے منع کرتا ہے۔ میں نے کہا: اتنی سی خبر سے تو میری تسلی نہیں ہوتی۔ آخر میں نے ایک سامان کی تھیلی اور ایک لاٹھی اٹھائی اور خود مکہ کی طرف روانہ ہوا لیکن وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پہچانتا تھا اور یہ بھی مناسب خیال نہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کسی سے دریافت کروں، لہٰذا میں زمزم کا پانی پیتا اور مسجد میں آیا کرتا تھا۔ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے اور کہنے لگے: تم مسافر معلوم ہوتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں (میں مسافر ہوں)۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھ گھر چلو، چنانچہ میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ نہ تو وہ مجھ سے کوئی بات کرتے اور نہ میں ہی ان سے کچھ بیان کرتا۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں کعبہ میں گیا تاکہ میں کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دریافت کروں لیکن کوئی شخص مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ بیان نہ کرتا تھا۔ پھر اتفاق سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا میری طرف سے گزر ہوا تو انہوں نے کہا: کیا ابھی تک اس شخص کو اپنا ٹھکانا نہیں ملا؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے کہا: نہیں! انہوں نے پھر کہا: تم میرے ساتھ چلو۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ تمہارا کام کیا ہے؟ اور اس شہر میں کیسے آئے ہو؟ میں نے کہا: اگر آپ میری بات کو پوشیدہ رکھیں تو میں آپ سے بیان کرتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔ میں نے ان سے کہا: ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ یہاں ایک شخص ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں، تو میں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ وہ ان سے بات کریں مگر وہ لوٹ آیا اور تسلی بخش کوئی خبر نہ لایا، چنانچہ میں نے چاہا کہ میں خود ان سے ملوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مطمئن رہو کہ تم اپنے مقصود کو پہنچ گئے ہو۔ میں اب انہی کے پاس جا رہا ہوں۔ تم بھی میرے ساتھ چلے آؤ۔ جہاں میں جاؤں وہاں تم بھی چلے آنا۔ اگر میں کسی ایسے شخص کو دیکھوں جس سے نقصان کا اندیشہ ہو تو میں کسی دیوار کے پاس کھڑا ہو جاؤں، گویا میں اپنا جوتا درست کر رہا ہوں مگر آپ وہاں سے چلتے رہیں، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ہمراہ چلا حتیٰ کہ میں اور وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھ پر اسلام پیش کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر اسلام پیش کیا تو میں فوراً ہی مسلمان ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! اپنے اسلام کو چھپاؤ، اپنے شہر لوٹ جاؤ اور جب تمہیں ہمارے غلبے کی خبر پہنچے تو واپس آ جانا۔ میں نے عرض کیا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے! میں تو لوگوں میں اسلام کا اظہار پکار پکار کر کروں گا، چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیت اللہ گئے جہاں قریش تھے اور ان سے کہا: اے گروہِ قریش! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی انہوں نے کہا کہ اس بے دین کی خبر لو، چنانچہ وہ اٹھے اور مجھے خوب زدوکوب کیا تاکہ میں مر جاؤں۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا اور مجھ پر گر پڑے اور کافروں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: تمہاری خرابی ہو! قبیلہ غفار کے ایک آدمی کو مارتے ہو، حالانکہ یہ قبیلہ تمہاری تجارت گاہ اور گزر گاہ ہے؟ تب وہ لوگ میرے پاس سے ہٹے، پھر جب میں دوسرے روز صبح کو اٹھا تو واپس آ کر پھر وہی بات کہی جو گزشتہ روز کہی تھی تو انہوں نے پھر کہا: اس بے دین کی طرف کھڑے ہو جاؤ۔ پھر میرے ساتھ پہلے روز جیسا سلوک کیا گیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو مجھ پر جھک گئے اور انہوں نے ویسی ہی گفتگو کی جو گزشتہ کل کی تھی۔ انہوں نے (حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کی ابتدا تھی، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں