صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3911
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ , وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ، قَالَ: فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ: يَا أَبَا بَكْرٍ , مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ؟ فَيَقُولُ: هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ، قَالَ: فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ , وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ , فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا , فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ" , فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ , ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ، قَالَ: فَقِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا، قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ , ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ , فَجَاءُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا، وَقَالُوا: ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ , فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلَاحِ، فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ: جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ: جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ , فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا , فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ؟" فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا، قَالَ: قُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ , فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ , وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ , وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ , فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ , فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ , فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ , وَيْلَكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ , فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا"، قَالُوا: مَا نَعْلَمُهُ، قَالُوا: لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهَا: ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ:" فَأَيُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ؟ قَالُوا: ذَاكَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا , وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا، قَالَ:" أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟" قَالُوا: حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، قَالَ:" أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟" قَالُوا: حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، قَالَ:" أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟" قَالُوا: حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، قَالَ:" يَا ابْنَ سَلَامٍ , اخْرُجْ عَلَيْهِمْ" , فَخَرَجَ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ , اتَّقُوا اللَّهَ , فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَاءَ بِحَقٍّ، فَقَالُوا: كَذَبْتَ , فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور آپ کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ دین و ایمان کا راستہ بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آ چکا تھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ سوار آ گیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے گرا دے چنانچہ گھوڑی نے اسے گرا دیا۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار (سراقہ) نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح آپ کے خلاف تھا شام جب ہوئی تو آپ کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو آپ سے روکنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ پہنچ کر) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلا بھیجا۔ اکابر انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہو جائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا۔ اتنے میں مدینہ میں بھی سب کو معلوم ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں سب لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آ گئے۔ اللہ کے نبی آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف چلتے رہے اور (مدینہ پہنچ کر) ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سواری سے اتر گئے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ (ایک یہودی عالم نے) اپنے گھر والوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے (سنتے ہی) بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کر چکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے (نانہالی) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا (اچھا تو جاؤ) دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لیے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں، اللہ مبارک کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عبداللہ بن سلام بھی آ گئے اور کہا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں، اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرمایئے، کیونکہ انہیں اگر معلوم ہو گیا کہ میں اسلام لا چکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ آپ کی خدمت حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو! افسوس تم پر، اللہ سے ڈرو، اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول برحق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، پھر اب اسلام میں داخل ہو جاؤ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح تین مرتبہ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارے سب سے بڑے عالم کے بیٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہو گا۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے، وہ اسلام کیوں لانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن سلام! اب ان کے سامنے آ جاؤ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آ گئے اور کہا: اے یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باہر چلے جانے کے لیے فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3911]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کے پیچھے (سواری پر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شکل و صورت میں بوڑھے تھے انہیں ہر ایک پہچانتا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوجوان غیر معروف تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ راستے میں اگر کوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرتا اور پوچھتا: ”اے ابوبکر! یہ آدمی کون ہے جو تمہارے آگے ہے؟“ وہ جواب دیتے: ”یہ شخص مجھے راستہ بتانے والا ہے۔“ پوچھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ عام راستہ بتانے والا ہے، حالانکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گوشہ چشم سے دیکھا تو ایک شخص جو گھوڑے پر سوار ہے وہ ان کے قریب آ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ سوار ہم تک پہنچ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مڑ کر دیکھا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ» ”اے اللہ! اسے گرا دے۔“ تو اسے گھوڑے نے گرا دیا۔ پھر وہ گھوڑا ہنہناتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس شخص نے عرض کی: اللہ کے نبی! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں تعمیل ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور کسی کو ہمارے پاس نہ پہنچنے دو۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ دن کے آغاز میں آپ کو پکڑنے والا تھا اور دن کے آخری حصے میں آپ کے لیے ہتھیار کا کام دینے لگا۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے پاس حرہ کی جانب فروکش ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارِ مدینہ کی طرف پیغام بھیجا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے آ گئے۔ انہوں نے ان دونوں کو سلام کیا اور کہا: ”آپ امن و امان سے سوار رہیں۔ اب آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور انصار نے ہتھیار لے کر ان دونوں کو اپنے جلو میں لیا اور عازمِ مدینہ ہوئے۔ ادھر مدینہ طیبہ میں یہ نعرہ لگایا جا رہا تھا: ”اللہ کے نبی آ گئے! اللہ کے نبی تشریف لے آئے!“ لوگ اونچی جگہوں پر چڑھ کر آپ کو دیکھ رہے تھے اور کہتے تھے: ”اللہ کے نبی تشریف لے آئے! اللہ کے نبی آ گئے!“ اسی حال میں چلتے چلتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان کے پاس اتر پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سنا جبکہ وہ اس وقت اپنے گھر والوں کے باغ میں کھجوریں چن رہے تھے، وہ جلدی سے جمع کی ہوئی کھجوریں ساتھ ہی لے کر آ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں سن کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے عزیزوں میں سے کس کا گھر قریب ہے؟“ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا دروازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو اور ہمارے لیے قیلولہ کرنے کی جگہ تیار کرو۔“ انہوں نے عرض کی: اللہ کی برکت سے آپ دونوں حضرات اٹھیں (قیلولے کا انتظام ہو چکا ہے)۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہونے لگے تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وہاں آ گئے اور عرض کی: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور سردار کا بیٹا ہوں، ان کا بڑا عالم اور بڑے عالم کا بیٹا ہوں۔ آپ انہیں بلا کر ان سے میرے متعلق پوچھیں لیکن انہیں یہ علم نہ ہونے پائے کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ اگر انہیں پتہ چل گیا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں تو میرے متعلق ایسی باتیں کریں گے جو مجھ میں نہیں ہیں۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں) پیغام بھیجا تو وہ آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اے جماعتِ یہود! تمہاری خرابی ہو، اللہ سے ڈرو۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! بلاشبہ تم خوب جانتے ہو کہ یقینا میں اللہ کا رسول ہوں اور تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، لہٰذا تم اسلام لے آؤ۔“ انہوں نے کہا کہ ہم تو اس بات کو نہیں جانتے۔ یہ بات انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں عبداللہ بن سلام کیسا شخص ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ ہمارا سردار اور ہمارے سردار کا بیٹا ہے اور ہمارا بڑا عالم اور بڑے عالم کا فرزندِ ارجمند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائے تو؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ ایسا نہ کرے، وہ اسلام قبول نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو؟“ انہوں نے کہا: اللہ انہیں بچائے، وہ اسلام قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ آپ نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا: ”اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو؟“ انہوں نے کہا: اللہ انہیں محفوظ رکھے، وہ مسلمان ہونے والے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن سلام! باہر آؤ۔“ وہ باہر آئے اور ان سے کہا: ”اے گروہِ یہود! اس اللہ سے ڈرو جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تم خوب جانتے ہو کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور سچا مذہب لے کر آئے ہیں۔“ یہودیوں نے کہا: تو جھوٹ بولتا ہے۔ پھر (اس بدتمیزی کی بنا پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں باہر نکال دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3911]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ مَقْدَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَنْزِعُ إِلَى أَخْوَالِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا جِبْرِيلُ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَأَمَّا الشَّبَهُ فِي الْوَلَدِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَشِيَ الْمَرْأَةَ فَسَبَقَهَا مَاؤُهُ كَانَ الشَّبَهُ لَهُ وَإِذَا سَبَقَ مَاؤُهَا كَانَ الشَّبَهُ لَهَا، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ إِنْ عَلِمُوا بِإِسْلَامِي قَبْلَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ بَهَتُونِي عِنْدَكَ فَجَاءَتْ الْيَهُودُ وَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْبَيْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، قَالُوا: أَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا وَأَخْبَرُنَا وَابْنُ أَخْيَرِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَوَقَعُوا فِيهِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مروان فزاری نے خبر دی۔ انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا۔ جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے جو سب سے پہلے جنتیوں کو کھانے کے لیے دیا جائے گا؟ اور کس چیز کی وجہ سے بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے آ کر اس کی خبر دی ہے۔ اس پر عبداللہ نے کہا کہ ملائکہ میں تو یہی تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کی سب سے پہلی علامت ایک آگ کی صورت میں ظاہر ہو گی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی، سب سے پہلا کھانا جو اہل جنت کی دعوت کے لیے پیش کیا جائے گا، وہ مچھلی کی کلیجی پر جو ٹکڑا ٹکا رہتا ہے وہ ہو گا اور بچے کی مشابہت کا جہاں تک تعلق ہے تو جب مرد عورت کے قریب جاتا ہے اس وقت اگر مرد کی منی پہل کر جاتی ہے تو بچہ اسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔ اگر عورت کی منی پہل کر جاتی ہے تو پھر بچہ عورت کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔“ (یہ سن کر) عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ پھر عرض کیا، یا رسول اللہ! یہود انتہا کی جھوٹی قوم ہے۔ اگر آپ کے دریافت کرنے سے پہلے میرے اسلام قبول کرنے کے بارے میں انہیں علم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجھ پر ہر طرح کی تہمتیں دھرنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ کچھ یہودی آئے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم لوگوں میں عبداللہ بن سلام کون صاحب ہیں؟ سارے یہودی کہنے لگے وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے صاحب زادے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، اگر عبداللہ مسلمان ہو جائیں تو پھر تمہارا کیا خیال ہو گا؟ انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہ سب ان کے متعلق کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے، وہیں وہ ان کی برائی کرنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3329]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ طیبہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں آپ سے تین سوال کرنا چاہتا ہوں، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے جو اہل جنت کو سب سے پہلے دیا جائے گا؟ کس وجہ سے بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور کس لیے اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے ان کے متعلق بتایا ہے۔“ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: وہ فرشتہ تو قومِ یہود کا دشمن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی پہلی نشانی آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔ سب سے پہلا کھانا جو اہل جنت تناول کریں گے وہ مچھلی کے جگر کے ساتھ کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا۔ اور بچے میں مشابہت اس طرح ہوتی ہے کہ مرد، جب بیوی سے جماع کرتا ہے تو اگر اس کا نطفہ عورت کے نطفے سے پہلے رحم میں چلا جائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہوتا ہے اور اگر عورت کا نطفہ سبقت لے جائے تو بچہ عورت کے مشابہ ہوتا ہے۔“ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے (تسلی کرنے کے بعد) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی بہت بہتان تراش ہیں۔ اگر انہیں میرے مسلمان ہونے کا علم ہو گیا تو آپ کے دریافت کرنے سے پہلے ہی آپ کے سامنے مجھ پر ہر طرح کی تہمت لگائیں گے۔ اس دوران میں یہودی آ گئے اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کمرے میں روپوش ہو کر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”بتاؤ تم میں عبداللہ بن سلام کیسا شخص ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں، نیز وہ ہم سب سے زیادہ بہتر اور سب سے زیادہ بہتر کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر عبداللہ بن سلام مسلمان ہو جائے (تو تمہارا کیا خیال ہوگا؟)“ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اسے اسلام سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے آ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اب (یہودی بیک زبان ہو کر ان کے متعلق) کہنے لگے: یہ ہم میں سب سے بدتر اور سب سے بدتر کا بیٹا ہے اور وہیں انہیں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة