🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب مقدم النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ میں آنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَاتُهُمْ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ".
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی کو (انصار کے قبائل اوس و خزرج کے درمیان) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں آنے سے پہلے ہی برپا کرا دیا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو انصار میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اور ان کے سردار قتل ہو چکے تھے۔ اس میں اللہ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ انصار اسلام قبول کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3930]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بعاث کی لڑائی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی برپا کر دیا تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انصار باہمی اختلاف و انتشار کا شکار تھے اور ان کے سردار قتل ہو چکے تھے، اس میں یہ حکمت تھی کہ انصار اسلام میں داخل ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3777
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ: سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا , فَقَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی جنگ کو (جو اسلام سے پہلے اوس اور خزرج میں ہوئی تھی) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقدم کر رکھا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو یہ قبائل آپس کی پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے، کچھ زخمی تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو آپ سے پہلے اس لیے مقدم کیا تھا تاکہ وہ آپ کے تشریف لاتے ہی مسلمان ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3777]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے بعاث کی جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقرر کر رکھا تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہ قبائل آپس میں پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے کچھ سردار قتل ہو چکے تھے اور کچھ زخموں سے چور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقرر کیا تھا تاکہ (آپ کے مدینہ تشریف لاتے ہی) یہ لوگ مسلمان ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں