صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3980
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، فَقَالَ:" هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ يَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ" , فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ" , ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.
مجھ سے عثمان نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کنویں پر کھڑے ہو کر فرمایا ”کیا جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے وعدہ کر رکھا تھا ‘ اسے تم نے سچا پا لیا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ اب بھی اسے سن رہے ہیں۔“ اس حدیث کا ذکر جب عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ انہوں نے اب جان لیا ہو گا کہ جو کچھ میں نے ان سے کہا تھا وہ حق تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آیت «إنك لا تسمع الوتى» ”بیشک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ پوری پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3980]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے غیر آباد کنویں پر کھڑے ہوئے اور (اس میں پڑے ہوئے کافروں سے) فرمایا: ”کیا تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ تم نے سچا پا لیا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اب یہ اسے سن رہے ہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا تھا: ”وہ اب جانتے ہیں کہ میں انہیں جو کہتا تھا وہ سچ تھا۔“ پھر انہوں نے یہ پوری آیت پڑھی: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ [سورة النمل: 80] ”بےشک آپ ان مردوں کو سنا نہیں سکتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1370
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ , قَالَ:" اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ , فَقَالَ: وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَقِيلَ لَهُ: تَدْعُو أَمْوَاتًا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں (جس میں بدر کے مشرک مقتولین کو ڈال دیا گیا تھا) کے قریب آئے اور فرمایا تمہارے مالک نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم لوگوں نے پا لیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو خطاب کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کچھ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1370]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدر کے) کنویں میں پڑے ہوئے مشرکین کی لاشوں کو دیکھا اور فرمایا: ”آیا تم نے اس چیز کو ٹھیک ٹھیک پا لیا جس کا تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: آپ مردوں کو آواز دیتے ہیں (حالانکہ وہ تو سنتے نہیں ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان سے زیادہ نہیں سنتے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1370]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1371
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ حَقٌّ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کافروں کو یہ فرمایا تھا کہ میں جو ان سے کہا کرتا تھا اب ان کو معلوم ہوا ہو گا کہ وہ سچ ہے۔ اور اللہ نے سورۃ الروم میں فرمایا «إنك لا تسمع الموتى» اے پیغمبر! تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1371]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قلیبِ بدر والوں کے متعلق فرمایا تھا: ”اب انھیں علم ہو گیا ہے کہ میں جو کہا کرتا تھا حق تھا۔“ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے﴾ [سورة النمل: 80] ۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1371]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة