صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب شهود الملائكة بدرا:
باب: جنگ بدر میں فرشتوں کا شریک ہونا۔
حدیث نمبر: 3992
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ قَالَ:" مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ" أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ".
مجھ سے اسحاق بن ابرہیم نے بیان کیا، ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی نے اپنے والد (رفاعہ بن رافع) سے، جو بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے انہوں نے پوچھا کہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں کا آپ کے یہاں درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سب سے افضل یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ جو فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ان کا بھی درجہ یہی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3992]
حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک تھے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا: ”آپ اہل بدر کو اپنے ہاں کیا مقام دیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب مسلمانوں سے افضل ہیں۔“ یا اس کی مانند کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ”اسی طرح وہ فرشتے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے وہ بھی دیگر فرشتوں سے افضل ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3994
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ،أَخْبَرَنَا يَحْيَى، سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ، أَنَّ مَلَكًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَعَنْ يَحْيَى، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْهَادِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ حَدَّثَهُ مُعَاذٌ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يَزِيدُ: فَقَالَ مُعَاذٌ:" إِنَّ السَّائِلَ هُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی اور انہوں نے معاذ بن رفاعہ سے سنا کہ ایک فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ یزید بن ہاد نے انہیں خبر دی کہ جس دن معاذ بن رفاعہ نے ان سے یہ حدیث بیان کی تھی تو وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ یزید نے بیان کیا کہ معاذ نے کہا تھا کہ پوچھنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3994]
حضرت معاذ بن رفاعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔“ (راویِ حدیث) حضرت یحییٰ کہتے ہیں کہ ”جس دن معاذ بن رفاعہ انہیں یہ حدیث بیان کر رہے تھے وہ یزید بن ہاد کے ہمراہ تھے۔ یزید نے کہا: معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کرنے والے حضرت جبریل علیہ السلام تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة