🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب حديث بني النضير:
باب: بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ:سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ:" قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ". تَابَعَهُ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ.
مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے کہا، سورۃ الحشر تو انہوں نے کہا کہ اسے سورۃ نضیر کہو (کیونکہ یہ سورت بنو نضیر ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے) اس روایت کی متابعت ہشیم سے ابوبشر نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4029]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: یہ سورۃ الحشر ہے، تو انہوں نے فرمایا: اسے سورہ نضیر کہو۔ ہشام نے ابوبشر سے روایت کرنے میں ابوعوانہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4645
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ الشَّوْكَةُ الْحَدُّ". مُرْدَفِينَ: فَوْجًا بَعْدَ فَوْجٍ رَدِفَنِي وَأَرْدَفَنِي جَاءَ بَعْدِي، ذُوقُوا: بَاشِرُوا وَجَرِّبُوا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ ذَوْقِ الْفَمِ، فَيَرْكُمَهُ: يَجْمَعَهُ، شَرِّدْ: فَرِّقْ، وَإِنْ جَنَحُوا: طَلَبُوا السِّلْمُ، وَالسَّلْمُ، وَالسَّلَامُ، وَاحِدٌ، يُثْخِنَ: يَغْلِبَ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مُكَاءً: إِدْخَالُ أَصَابِعِهِمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ، وَتَصْدِيَةً: الصَّفِيرُ، لِيُثْبِتُوكَ: لِيَحْبِسُوكَ.
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتلایا کہ غزوہ بدر میں نازل ہوئی تھی۔ «الشوكة» کا معنی دھار نوک۔ «مردفين‏» کے معنی فوج در فوج۔ کہتے ہیں «ردفني وأردفني» یعنی میرے بعد آیا۔ «ذلكم فذوقوه ذوقوا‏» کا معنی یہ ہے کہ یہ عذاب اٹھاؤ اس کا تجربہ کرو، منہ سے چکھنا مراد نہیں ہے۔ «فيركمه‏» کا معنی اس کا جمع کرے۔ «شرد‏» کا معنی جدا کر دے (یا سخت سزا دے)۔ «جنحوا‏» کے معنی طلب کریں۔ «يثخن‏» کا معنی غالب ہوا اور مجاہد نے کہا «مكاء‏» کا معنی انگلیاں منہ پر رکھنا۔ «تصدية‏» سیٹی بجانا۔ «يثبتوك‏» تاکہ تجھ کو قید کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4645]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: سورہ انفال کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو فرمایا: وہ غزوہ بدر کے متعلق نازل ہوئی۔ «الشَّوْكَةِ» کے معنی ہیں: تلوار کی دھار۔ «مُرْدِفِينَ» کا مطلب ہے: ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت۔ «رَدَفَنِي» اور «أَرْدَفَنِي» دونوں کے معنی ایک ہیں، یعنی میرے بعد آیا۔ «ذُوقُوا» کے معنی ہیں: عذاب برداشت کرو اور اس کا خود تجربہ کرو، اس سے مراد منہ سے چکھنا نہیں۔ «فَيَرْكُمَهُ» کے معنی ہیں: اس کو جمع کر دے۔ «شَرِّدْ»: متفرق اور منتشر کرنا۔ «جَنَحُوا»: صلح و سلامتی طلب کریں۔ «السَّلْمِ»، «السِّلْمِ» اور «السَّلَامِ» ان تینوں الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی امن و امان اور صلح و سلامتی۔ «يُثْخِنَ» کے معنی ہیں: خون ریزی کر کے غلبہ پانا۔ مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: «مُكَاءً» کے معنی ہیں: اپنی انگلیوں کو منہ میں داخل کرنا اور «وَتَصْدِيَةً» کے معنی ہیں: سیٹی بجانا۔ «لِيُثْبِتُوكَ» کے معنی ہیں: آپ کو قید کر لیں، آپ کو روک لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4882
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" سُورَةُ التَّوْبَةِ، قَالَ: التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا لَنْ تُبْقِيَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر جعفر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ التوبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ سورۃ التوبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ہے اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعض لوگ ایسے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الحشر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4882]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ سورہ توبہ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: یہ سورہ توبہ تو رسوا کرنے والی ہے۔ اس سورت میں تو مسلسل یہی نازل ہوتا رہا کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، حتی کہ لوگوں کو گمان ہوا کہ یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ میں نے سورہ انفال کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ جنگ بدر کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ میں نے سورہ حشر کے متعلق عرض کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4882]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4883
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ.
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر (جعفر بن ابی) نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الحشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا بلکہ اسے سورۃ النضیر کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4883]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ حشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سورت کو «سُورَةُ النَّضِيرِ» سورۃ النضیر کہا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4883]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں