صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
88. باب بعث النبى صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد رضي الله عنهما فى مرضه الذى توفي فيه:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مرض الموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا۔
حدیث نمبر: 4468
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ، اسْتَعْمَل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ , فَقَالُوا فِيهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ".
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر کا امیر بنایا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسامہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4468]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیرِ لشکر مقرر کیا تو کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ تم نے اسامہ کے بارے میں کہا ہے وہ سب مجھ تک پہنچ چکا ہے اور بلاشبہ وہ سب لوگوں سے مجھے زیادہ پیارے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4468]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3730
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ ان کے امیر بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آج تم اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے اس کے باپ کے امیر بنائے جانے پر بھی تم نے اعتراض کیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ (زید رضی اللہ عنہ) امارت کے مستحق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔ اور یہ (اسامہ رضی اللہ عنہ) اب ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3730]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا اور اس پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو امیر مقرر فرمایا تو کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی سرداری پر اعتراض کرتے ہو تو تم نے قبل ازیں اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا۔ اللہ کی قسم! وہ سرداری کے لیے نہایت ہی موزوں شخص تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھے اور ان کے بعد یہ اسامہ رضی اللہ عنہ مجھے لوگوں سے زیادہ پیارے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3730]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة