🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ قَوْلِهِ: {فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} :
باب: آیت کی تفسیر ”سو آپ خود اور آپ کا رب جہاد کرنے چلے جاؤ اور آپ دونوں ہی لڑو بھڑو، ہم تو اس جگہ بیٹھے رہیں گے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4609
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ. ح وحَدَّثَنِي حَمْدَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ الْمِقْدَادُ:" يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ سورة المائدة آية 24، وَلَكِنْ امْضِ وَنَحْنُ مَعَكَ، فَكَأَنَّهُ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ الْمِقْدَادَ قَالَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مخارق نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب موجود تھا (دوسری سند) اور مجھ سے حمدان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر (ہاشم بن قاسم) نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالرحمٰن اشجعی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے مخارق بن عبداللہ نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کے موقع پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی «فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ها هنا قاعدون‏» کہ آپ خود اور آپ کے خدا چلے جائیں اور آپ دونوں لڑ بھڑ لیں۔ ہم تو یہاں سے ٹلنے کے نہیں۔ نہیں! آپ چلئے، ہم آپ کے ساتھ جان دینے کو حاضر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے خوشی ہوئی۔ اس حدیث کو وکیع نے بھی سفیان ثوری سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے کہ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا (جو اوپر بیان ہوا)۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4609]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ﴿فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [سورة المائدة: 24] تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور (ان سے) لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں لیکن آپ چلیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خدشات دور ہو گئے اور آپ بہت خوش ہوئے۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے سفیان رحمہ اللہ سے، انہوں نے مخارق رحمہ اللہ سے، انہوں نے طارق رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4609]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3952
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ مِنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ , أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" لَا نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا سورة المائدة آية 24 وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ , وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ"، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ يَعْنِي قَوْلَهُ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، ان سے مخارق بن عبداللہ بجلی نے، ان سے طارق بن شہاب نے، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہو جاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ جاؤ، تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے اور پیچھے جمع ہو کر لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3952]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ میں ایک ایسی بات دیکھی، اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو کسی نیکی کو اس کے برابر خیال نہ کرتا۔ ہوا یوں کہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ایسا نہیں کہیں گے جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا تھا: ﴿فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا﴾ [سورة المائدة: 24] تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور وہاں دونوں لڑائی کرو۔ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے لڑیں گے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا اور آپ ان پاکیزہ جذبات سے مسرور ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3952]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں