صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قوله: {لا تدخلوا بيوت النبى إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستأنسين لحديث إن ذلكم كان يؤذي النبى فيستحيي منكم والله لا يستحيي من الحق وإذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب ذلكم أطهر لقلوبكم وقلوبهن وما كان لكم أن تؤذوا رسول الله ولا أن تنكحوا أزواجه من بعده أبدا إن ذلكم كان عند الله عظيما} :
باب: آیت کی تفسیر یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ بیٹھے رہو، البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور وہاں باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے سودہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے“۔
حدیث نمبر: 4793
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بُنِيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَأُرْسِلْتُ عَلَى الطَّعَامِ دَاعِيًا، فَيَجِيءُ قَوْمٌ، فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، فَدَعَوْتُ حَتَّى مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُو، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُوهُ، قَالَ:" ارْفَعُوا طَعَامَكُمْ"، وَبَقِيَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ"، فَقَالَتْ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، فَتَقَرَّى حُجَرَ نِسَائِهِ كُلِّهِنَّ، يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا يَقُولُ لِعَائِشَةَ، وَيَقُلْنَ لَهُ كَمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا ثَلَاثَةٌ مِنْ رَهْطٍ فِي الْبَيْتِ يَتَحَدَّثُونَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْحَيَاءِ، فَخَرَجَ مُنْطَلِقًا نَحْوَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَمَا أَدْرِي أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا، فَرَجَعَ حَتَّى إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ دَاخِلَةً وَأُخْرَى خَارِجَةً أَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد (بطور ولیمہ) گوشت اور روٹی تیار کروائی اور مجھے کھانے پر لوگوں کو بلانے کے لیے بھیجا، پھر کچھ لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے گئے۔ پھر دوسرے لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے، میں بلاتا رہا۔ آخر جب کوئی باقی نہیں رہا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اب تو کوئی باقی نہیں رہا جس کو میں دعوت دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب دستر خوان اٹھا لو لیکن تین اشخاص گھر میں باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے سامنے جا کر فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے کہا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، اپنی اہل کو آپ نے کیسا پایا؟ اللہ برکت عطا فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح تمام ازواج مطہرات کے حجروں کے سامنے گئے اور جس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا اس طرح سب سے فرمایا اور انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح جواب دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو وہ تین آدمی اب بھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ حیاء دار تھے، آپ (یہ دیکھ کر کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں) عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف پھر چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد میں نے یا کسی اور نے آپ کو جا کر خبر کی کہ اب وہ تینوں آدمی روانہ ہو چکے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب واپس تشریف لائے اور پاؤں چوکھٹ پر رکھا۔ ابھی آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور ایک پاؤں باہر کہ آپ نے پردہ گرا لیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4793]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا تیار کیا تو مجھے لوگوں کو بلانے کے لیے بھیجا گیا۔ لوگ آتے، کھانا کھا کر واپس چلے جاتے، پھر دوسرے لوگ آتے وہ بھی کھا کر واپس چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا حتی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہ گیا جسے میں نے نہ بلایا ہو۔ میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! اب کوئی شخص بلانے کے لیے باقی نہیں رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب دستر خوان اٹھا لو۔“ تین شخص گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے اٹھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف گئے اور فرمایا: ”اے گھر والو! «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔““ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”اور آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو!“ آپ نے اپنے اہل کو کیسے پایا؟ اللہ تعالیٰ آپ کو برکت عطا فرمائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ازواج مطہرات کے حجروں کا دورہ فرمایا اور جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا اسی طرح سب سے فرمایا اور انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو وہ تین حضرات ابھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج میں بہت شرم و حیا تھی، اس لیے پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ مجھے یاد نہیں کہ خود میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی یا کسی اور نے آپ کو بتایا کہ اب وہ تینوں حضرات چلے گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور دروازے کی چوکھٹ میں آپ کا ایک پاؤں اندر اور ایک باہر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیت نازل فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4793]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ، فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، وَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ وَقَعَدَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا، فَانْطَلَقْتُ، فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ".
ہم سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو قوم کو آپ نے دعوت ولیمہ دی، کھانا کھانے کے بعد لوگ (گھر کے اندر ہی) بیٹھے (دیر تک) باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں (تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور اٹھ جائیں) لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا، جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے، لیکن تین آدمی اب بھی بیٹھے رہ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ کچھ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی اٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لائے۔ میں نے بھی چاہا کہ اندر جاؤں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں دروازہ کا پردہ گرا لیا، اس کے بعد آیت (مذکورہ بالا) نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي» کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4791]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کو آپ نے دعوتِ ولیمہ دی، کھانے کے بعد لوگ بیٹھے باتیں کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں لیکن لوگ پھر بھی نہ اٹھے۔ جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ اٹھے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی پھر بھی بیٹھے رہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، پھر وہ لوگ اٹھے اور اٹھ کر چلے گئے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لے گئے۔ میں نے بھی اندر داخل ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا لیا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو﴾ [سورة الأحزاب: 53] ۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة