صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 4882
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" سُورَةُ التَّوْبَةِ، قَالَ: التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا لَنْ تُبْقِيَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر جعفر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ التوبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ سورۃ التوبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ہے اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعض لوگ ایسے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الحشر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4882]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ سورہ توبہ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ سورہ توبہ تو رسوا کرنے والی ہے۔ اس سورت میں تو مسلسل یہی نازل ہوتا رہا کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، حتی کہ لوگوں کو گمان ہوا کہ یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔“ میں نے سورہ انفال کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ”یہ جنگ بدر کے متعلق نازل ہوئی تھی۔“ میں نے سورہ حشر کے متعلق عرض کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4882]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ:سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ:" قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ". تَابَعَهُ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ.
مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے کہا، ”سورۃ الحشر“ تو انہوں نے کہا کہ اسے ”سورۃ نضیر“ کہو (کیونکہ یہ سورت بنو نضیر ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے) اس روایت کی متابعت ہشیم سے ابوبشر نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4029]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: یہ سورۃ الحشر ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”اسے سورہ نضیر کہو۔““ ہشام نے ابوبشر سے روایت کرنے میں ابوعوانہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة