🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب شهادة المرضعة:
باب: اگر صرف دودھ پلانے والی عورت رضاعت کی گواہی دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5104
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ لِي: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، قُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا؟ دَعْهَا عَنْكَ، وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، يَحْكِي أَيُّوبَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث خود عقبہ سے بھی سنی ہے لیکن مجھے عبید کے واسطے سے سنی ہوئی حدیث زیادہ یاد ہے۔ عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت (ام یحییٰ بن ابی اہاب) سے نکاح کیا۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلانی بنت فلاں سے نکاح کیا ہے۔ اس کے بعد ہمارے یہاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، حالانکہ وہ جھوٹی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے ناگوار گزرا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بیوی سے اب کیسے نکاح رہ سکے گا جبکہ یہ عورت یوں کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو۔ (حدیث کے راوی) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کر کے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5104]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو ایک عورت نے آکر کہا ہے کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، حالانکہ وہ جھوٹ بولتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے منہ پھیر لیا۔ میں نے آپ کے چہرہ انور کی طرف آکر عرض کی: وہ عورت جھوٹ کہتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب اس بیوی سے کیا نکاح رہ سکے گا جبکہ اس عورت نے تمہیں دودھ پلانے کی شہادت دی ہے؟ اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو۔ (راویِ حدیث) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ شیخ محترم نے اس طرح اشارہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5104]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ،" أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي، فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ، فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ".
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہیں عبداللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے عقبہ ابن الحارث کے واسطے سے نقل کیا کہ عقبہ نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے اس کا نکاح ہوا ہے، اس کو دودھ پلایا ہے۔ (یہ سن کر) عقبہ نے کہا، مجھے نہیں معلوم کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے کبھی مجھے بتایا ہے۔ تب عقبہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس طرح (تم اس لڑکی سے رشتہ رکھو گے) حالانکہ (اس کے متعلق یہ) کہا گیا تب عقبہ بن حارث نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا اور اس نے دوسرا خاوند کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 88]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو علم نہیں کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ پہلے تو نے اس کی خبر دی۔ پھر حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آ گئے اور آپ سے مسئلہ پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تو اس عورت سے) کیسے (صحبت کرے گا) جبکہ ایسی بات کہی گئی ہے؟ آخر حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں