صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ عَرْضِ الإِنْسَانِ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخَيْرِ:
باب: کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو اہل خیر سے نکاح کے لیے پیش کرنا۔
حدیث نمبر: 5123
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے عراک بن مالک نے اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں اس سے اس کے باوجود نکاح کر سکتا ہوں کہ (ان کی ماں) ام سلمہ میرے نکاح میں پہلے ہی سے موجود ہے اور اگر میں ام سلمہ سے نکاح نہ کئے ہوتا جب بھی وہ درہ میرے لیے حلال نہیں تھی۔ کیونکہ اس کے والد (ابوسلمہ رضی اللہ عنہ) میرے رضاعی بھائی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5123]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے والے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں ام سلمہ کے ہوتے ہوئے اس سے نکاح کروں؟ اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح نہ کیا ہوتا تو بھی وہ میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ اس کے والد (حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ) میرے رضاعی بھائی تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5123]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5101
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ: أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، قُلْتُ: فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ! قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ:" لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي، مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي، وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ"، قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ: مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ، كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ، قَالَ لَهُ: مَاذَا لَقِيتَ؟ قَالَ أَبُو لَهَبٍ: لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ.
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے خبر دی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بہن (ابوسفیان کی لڑکی) سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی (کہ تمہاری سوکن بہن بنے)؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی (غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابوسلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔ عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔ (جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی) پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی (پیر کے دن مل جاتا ہے) ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5101]
حضرت ام المومنین ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ میری بہن جو ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی دختر ہے، سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پسند کرو گی؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں، اب بھی تو میں آپ کی اکیلی بیوی نہیں ہوں، میری خواہش ہے کہ میری بہن میرے ساتھ خیر و برکت میں شریک ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے عرض کی: ”ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بیٹی جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری رہیبہ (پہلے خاوند سے اولاد، سوتیلی بیٹی) نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابو سلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔ تم مجھ پر اپنی بہنیں اور بیٹیاں نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو۔“ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”ثوبیہ ابو لہب کی لونڈی تھی، ابو لہب نے اسے آزاد کر دیا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا، جب ابو لہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے اسے (خواب میں) بری حالت میں دیکھا، اس نے پوچھا: ”تجھ پر کیا بیتی؟“ اس نے کہا: ”جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں مجھے کبھی آرام نہیں ملا، سوائے اس بات کے کہ میں اس انگلی سے پانی پلایا جاتا ہوں، یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة