🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب إنكاح الرجل ولده الصغار:
باب: آدمی اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا".
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو اس وقت ان کی عمر نو برس کی تھی اور وہ نو برس آپ کے پاس رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5133]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا جبکہ وہ چھ برس کی تھیں اور ان کی رخصتی ہوئی وہ نو برس کی تھیں اور وہ آپ کے پاس نو برس رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5133]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3894
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ , فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ , فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي فَوَفَى جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي فَصَرَخَتْ بِي , فَأَتَيْتُهَا لَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي , فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأُنْهِجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي , ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي , ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ , فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ , فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى , فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ".
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ (ہجرت کر کے) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا۔ یہاں آ کر مجھے بخار چڑھا اور اس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہو گئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں۔ اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہو گئی۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں، جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو۔ میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا میری عمر اس وقت نو سال تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3894]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ برس کی تھی۔ پھر ہم مدینہ طیبہ آئے اور بنو حارث کے محلے میں قیام کیا تو مجھے بخار آنے لگا، جس نے میرے بال گرا دیے۔ پھر جب میرے کندھوں تک بال ہو گئے تو میری والدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں۔ اس وقت میں اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی۔ میری والدہ نے مجھے زور سے آواز دی تو میں ان کے پاس چلی آئی اور مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھے کیوں بلا رہی ہیں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھر کے دروازے کے پاس کھڑا کر دیا، جبکہ میرا سانس پھول رہا تھا، حتی کہ میرا سانس درست ہوا تو انہوں نے کچھ پانی میرے منہ اور سر پر ڈالا۔ پھر وہ مجھے گھر کے اندر لے گئیں۔ وہاں چند انصاری خواتین موجود تھیں۔ انہوں نے کہا: مبارک ہو۔ تم خیر و برکت کے ساتھ آئی ہو، تمہارا نصیب اچھا ہے۔ پھر میری ماں نے مجھے ان کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے میرا بناؤ سنگھار کیا۔ پھر دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں خوفزدہ ہو گئی۔ انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا۔ اس وقت میری عمر نو برس کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3894]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3896
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ مَخْرَجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ , فَلَبِثَ سَنَتَيْنِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ وَنَكَحَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ , ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3896]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ طیبہ تشریف لے جانے سے تین برس قبل وفات پائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سال یا اس کے لگ بھگ ٹھہرے (اور آپ نے کسی خاتون سے شادی نہیں کی۔ بعد ازاں) آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ ان کی عمر چھ برس تھی، پھر ان کی رخصتی کی گئی جبکہ وہ نو برس کی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5077
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ نَزَلْتَ وَادِيًا وَفِيهِ شَجَرَةٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا، وَوَجَدْتَ شَجَرًا لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تُرْتِعُ بَعِيرَكَ؟ قَالَ: فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ مِنْهَا، تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوں میں سے کس درخت میں چرائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرایا نہیں گیا ہو۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5077]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بتائیں کہ اگر آپ کسی وادی میں پڑاؤ کریں، وہاں ایک درخت ہو جس میں (جانور) چر گئے ہوں اور ایک ایسا درخت ہو (جس سے نہ چرایا گیا ہو)، تو آپ کس درخت سے اپنے اونٹ کو کھلائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درخت سے جو کسی اونٹ کو نہ کھلایا گیا ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5077]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا أَنَا أَخُوكَ، فَقَالَ: أَنْتَ أَخِي فِي دِينِ اللَّهِ وَكِتَابِهِ وَهِيَ لِي حَلَالٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے یزید بن حبیب نے، ان سے عراک بن مالک نے اور ان سے عروہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ (تو عائشہ سے کیسے نکاح کریں گے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لیے حلال ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5081]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو انہوں نے عرض کی: میں تو آپ کا بھائی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی کتاب کے مطابق میرے دینی بھائی ہو۔ وہ (عائشہ) میرے لیے حلال ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5081]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5134
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ"، قَالَ هِشَامٌ: وَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5134]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو عمر نو سال کی تھی۔ حضرت ہشام رحمہ اللہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نو برس تک رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5134]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5156
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ".
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ (ام رومان بنت عامر) میرے پاس آئیں اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں۔ گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں۔ انہوں نے (مجھ کو اور میری ماں کو) یوں دعا دی «بارك وبارك الله» اللہ کرے تم اچھی ہو تمہارا نصیبہ اچھا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5156]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو میرے ساتھ میری والدہ تشریف لائیں اور انہوں نے مجھے ایک گھر میں پہنچا دیا جہاں انصار کی کچھ خواتین موجود تھیں۔ انہوں نے یوں دعا دی: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ» تمہارا آنا خیر و برکت پر ہو اور اللہ کرے تمہارا نصیب بھی اچھا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5156]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5158
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ،" تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا".
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عروہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال کی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5158]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ وہ چھ برس کی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت فرمائی جبکہ وہ نو برس کی تھیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو برس تک رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5158]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5160
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْنِي أُمِّي، فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى".
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انس سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5160]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میری والدہ میرے پاس آئیں اور (تنہا) مجھے ایک گھر میں پہنچا دیا۔ وہاں مجھے کسی بات سے گھبراہٹ نہ ہوئی، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک میرے پاس چاشت کے وقت آئے (اور مجھ سے خلوت فرمائی)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5160]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں