🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. بَابُ الْهَدِيَّةِ لِلْعَرُوسِ:
باب: دلہن کو تحائف بھیجنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5163
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ واسْمُهُ الْجَعْدُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ، فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ: لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً؟ فَقُلْتُ لَهَا: افْعَلِي، فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي: ضَعْهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي، فَقَالَ: ادْعُ لِي رِجَالًا سَمَّاهُمْ، وَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ، قَالَ: فَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي، فَرَجَعْتُ، فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ وَتَكَلَّمَ بِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَقُولُ لَهُمْ: اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ، قَالَ: حَتَّى تَصَدَّعُوا كُلُّهُمْ عَنْهَا فَخَرَجَ مِنْهُمْ مَنْ خَرَجَ وَبَقِيَ نَفَرٌ يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: وَجَعَلْتُ أَغْتَمُّ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْحُجُرَاتِ وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ قَدْ ذَهَبُوا، فَرَجَعَ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ وَإِنِّي لَفِي الْحُجْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53"، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: قَالَ أَنَسٌ: إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ
اور ابراہیم بن طہمان نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں (جو بصرہ میں ہے) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے (وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں)۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم (میری ماں) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا، میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا۔ لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا (برکت کی دعا فرمائی)۔ پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ (رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا (اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور (زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں) آئے۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ مسلمانو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے تم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جاؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو۔ باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہا کرو، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی، اس کو تم سے شرم آتی تھی (کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا۔ ابوعثمان (جعدی بن دینار) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5163]
حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا ہمارے سامنے سے بنو رفاعہ کی مسجد سے گزر ہوا، میں نے سنا آپ فرما رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا، آپ جب بھی حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے اور انہیں سلام کرتے۔ اس کے بعد حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے دولہا بنے تو مجھے (میری والدہ) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تحفہ بھیجیں تو بہتر ہے۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے ضرور بھیجیں۔ چنانچہ انہوں نے کھجور، گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور مجھے دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کیا۔ جب وہاں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ پھر حکم دیا: فلاں فلاں لوگوں کو میرے پاس لاؤ... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام لیا، ...اور جو بھی آدمی تجھے راستے میں ملے اسے میری طرف سے دعوت دے دو۔ چنانچہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا تھا میں نے اس کی تعمیل کی۔ جب میں واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں سے گھر بھرا ہوا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھ دیے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ اپنی زبان سے پڑھا، اس کے بعد دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے: اللہ کا نام لے کر ہر آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ بہرحال سب لوگ کھا کر گھر سے باہر چلے گئے، البتہ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھے ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا، آخرکار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں کی طرف گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گیا، میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا: لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آکر گھر میں داخل ہوئے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں ابھی حجرے ہی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سورہ احزاب) کی یہ آیات پڑھ رہے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے اندر آنے کی اجازت دی جائے، وہاں بیٹھ کر کھانا پکنے کا انتظار نہ کرو، البتہ جب تمہیں بلایا جائے تو اندر جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی واپس چلے آؤ، باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہو، یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ ابو عثمان کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: بے شک میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت انجام دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5163]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ، فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، وَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ وَقَعَدَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا، فَانْطَلَقْتُ، فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ".
ہم سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو قوم کو آپ نے دعوت ولیمہ دی، کھانا کھانے کے بعد لوگ (گھر کے اندر ہی) بیٹھے (دیر تک) باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں (تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور اٹھ جائیں) لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا، جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے، لیکن تین آدمی اب بھی بیٹھے رہ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ کچھ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی اٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لائے۔ میں نے بھی چاہا کہ اندر جاؤں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں دروازہ کا پردہ گرا لیا، اس کے بعد آیت (مذکورہ بالا) نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي‏» کہ اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4791]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کو آپ نے دعوتِ ولیمہ دی، کھانے کے بعد لوگ بیٹھے باتیں کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں لیکن لوگ پھر بھی نہ اٹھے۔ جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ اٹھے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی پھر بھی بیٹھے رہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، پھر وہ لوگ اٹھے اور اٹھ کر چلے گئے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لے گئے۔ میں نے بھی اندر داخل ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا لیا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو﴾ [سورة الأحزاب: 53] ۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں