صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب من قال لامرأته أنت على حرام:
باب: جس نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 5264
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا، قَالَ: لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا، حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ".
اور لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر ایسے شخص کا مسئلہ پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہوتی، تو وہ کہتے اگر تو ایک بار یا دو بار طلاق دیتا تو رجوع کر سکتا تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایسا ہی حکم دیا تھا لیکن جب تو نے تین طلاق دے دی تو وہ عورت اب تجھ پر حرام ہو گئی یہاں تک کہ وہ تیرے سوا اور کسی شخص سے نکاح کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5264]
حضرت نافع سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جب ایسے شخص کے متعلق مسئلہ پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوتیں تو وہ کہتے: ”اگر ایک بار دو بار طلاق دیتا تو رجوع کر سکتا تھا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسا ہی حکم دیا تھا۔ لیکن جب تو نے تین طلاقیں دے دیں تو وہ عورت اب تجھ پر حرام ہو گئی حتی کہ وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5264]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4908
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" لِيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوی آمنہ بنت غفار کو جبکہ وہ حائضہ تھیں طلاق دے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ اس پر بہت غصہ ہوئے اور فرمایا کہ وہ ان سے (اپنی بیوی سے) رجوع کر لیں اور اپنے نکاح میں رکھیں یہاں تک کہ وہ ماہواری سے پاک ہو جائے پھر ماہواری آئے اور پھر وہ اس سے پاک ہو، اب اگر وہ طلاق دینا مناسب سمجھیں تو اس کی پاکی (طہر) کے زمانہ میں ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے طلاق دے سکتے ہیں بس یہی وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے (مردوں کو) حکم دیا ہے کہ اس میں یعنی حالت طہر میں طلاق دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 4908]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چاہیے کہ اپنی بیوی سے رجوع کرے، پھر اسے اپنے پاس روکے حتیٰ کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے اور پھر اس سے پاک ہو جائے، پھر اگر طلاق دینا چاہے تو اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دے۔ یہی وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 4908]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5262
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن صبیح نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا اور ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو ہی پسند کیا تھا لیکن اس کا ہمارے حق میں کوئی شمار (طلاق) میں نہیں ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5262]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کا انتخاب کیا، پس اس (اختیار دینے) کو کچھ بھی شمار نہ کیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5262]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة