صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب تحد المتوفى عنها زوجها أربعة أشهر وعشرا:
باب: جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے۔
حدیث نمبر: 5336
قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَتَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ» . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لاَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ» .
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ کہتے سنا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری لڑکی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ نہیں، دو تین مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے کہ نہیں! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (شرعی عدت) چار مہینے اور دس دن ہی کی ہے۔ جاہلیت میں تو تمہیں سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی (جب کہیں عدت سے باہر ہوتی تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5336]
حضرت زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ یہی کہا، ہر مرتبہ فرماتے تھے: ”نہیں“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں، دورِ جاہلیت میں تو ایک سال کے بعد تمہیں مینگنی پھینکنا پڑتی تھی۔““ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5336]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5338
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَخَشُوا عَلَى عَيْنَيْهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ: لَا تَكَحَّلْ، قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ شَرِّ بَيْتِهَا، فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ، فَلَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے حمید بن نافع نے، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ (زمانہ عدت میں) نہ لگاؤ۔ (زمانہ جاہلیت میں) تمہیں بدترین کپڑے میں وقت گزارنا پڑتا تھا، یا (راوی کو شک تھا کہ یہ فرمایا کہ) بدترین گھر میں وقت (عدت) گزارنا پڑتا تھا۔ جب اس طرح ایک سال پورا ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس پر مینگنی پھینکتی (جب عدت سے باہر آتی) پس سرمہ نہ لگاؤ۔ یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5338]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ اپنی والدہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا شوہر فوت ہو گیا تو اس کے اہل خانہ کو اس کی آنکھوں کے ضائع ہونے کا خطرہ محسوس ہوا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سرمہ نہ لگائے۔ زمانہ جاہلیت میں تم میں سے کسی ایک کو گندے گھر اور بد ترین کپڑوں میں وقت گزارنا پڑتا تھا۔ جب اس طرح سال مکمل ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس کی طرف مینگنی پھینکتی تھی۔ اس لیے اب تم اسے سرمہ نہ لگاؤ حتیٰ کہ چار ماہ دس گزر جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5338]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5706
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرُوا لَهُ الْكُحْلَ وَأَنَّهُ يُخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، فَقَالَ" لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي أَحْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بَعْرَةً فَهَلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید بن نافع نے بیان کیا، ان سے زینب رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا (زمانہ عدت میں) اس عورت کی آنکھ دکھنے لگی تو لوگوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرمہ کا ذکر کیا اور یہ کہ (اگر سرمہ آنکھ میں نہ لگایا تو) ان کی آنکھ کے متعلق خطرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ جاہلیت میں) عدت گزارنے والی تم عورتوں کے اپنے گھر میں سب سے بدتر کپڑے میں پڑا رہنا پڑتا تھا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے بدتر حصہ میں پڑا رہنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس پر وہ مینگنی پھینک کر مارتی (تب عدت سے باہر ہوتی) پس چار مہینے دس دن تک سرمہ نہ لگاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5706]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کا شوہر فوت ہو گیا اور اس کی آنکھوں میں درد ہو گیا تو لوگوں نے اس عورت کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی بات بھی ہوئی اور یہ کہ اس کی آنکھ ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دورِ جاہلیت میں عدت گزارنے والی عورت کو اپنے گھر میں بدترین کپڑوں میں رہنا پڑتا تھا۔“ یا فرمایا: ”اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے گندے حصے میں پڑا رہنا پڑتا تھا، پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس کو مینگنی مارتی (اور عدت سے باہر آتی)، تو کیا اب چار ماہ دس دن تک سرمہ لگانے سے نہیں رک سکتی؟“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5706]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة