🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب القسط للحادة عند الطهر:
باب: زمانہ عدت میں حیض سے پاکی کے وقت عود کا استعمال کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5341
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَطَّيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ".
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگاتے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا (دھاگا) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5341]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوائے خاوند کے، کیونکہ اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، نیز دوران سوگ میں نہ ہم سرمہ لگاتیں، نہ خوشبو استعمال کرتیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا ہی پہنتیں۔ ہاں وہ کپڑا استعمال کرنے کی اجازت تھی جس کا دھاگا بننے سے پہلے ہی سے رنگ دیا ہو۔ ہمیں اس کی بھی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض سے پاک ہوتی تو «أَظْفَار» کی تھوڑی سی کستوری استعمال کرے، نیز ہمیں جنازے کے پیچھے جانے سے روکا جاتا تھا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: «الْقُسْطُ» اور «الْكُسْتُ» ایک ہی چیز ہیں، جیسے «الْكَافُورُ» اور «الْقَافُورُ» (دونوں ایک ہیں)۔ «نُبْذَةٌ» کے معنی ہیں ٹکڑا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ"، قَالَ: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے حفصہ سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں (عدت کے دنوں میں) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 313]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے روکا جاتا تھا، سوائے شوہر کے کہ اس کے معاملے میں چار ماہ دس دن تک سوگ کا حکم تھا، نیز یہ بھی حکم تھا کہ اس دوران میں ہم نہ سرمہ لگائیں، نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ کوئی رنگین کپڑا پہنیں، مگر جس کپڑے کا دھاگا بناوٹ کے وقت ہی رنگا ہوا ہو۔ البتہ حیض سے فراغت کے وقت یہ اجازت تھی کہ جب ہم میں سے کوئی غسلِ حیض کرے تو وہ «کُسْتَ أَظْفَارٍ» خوشبو استعمال کرے۔ اس کے علاوہ ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ اس حدیث کی روایت ہشام بن حسان نے حفصہ رحمہا اللہ سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں