صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب القران فى التمر:
باب: دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانا۔
حدیث نمبر: 5446
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ:" أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ، وَيَقُولُ: لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقِرَانِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: الْإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ (جب وہ حجاز کے خلیفہ تھے) ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے راشن میں ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا سوا اس صورت کے جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے (جو کھانے میں شریک ہے) اس کی اجازت لے لے۔ شعبہ نے بیان کیا کہ اجازت والا ٹکڑا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5446]
حضرت جبلہ بن سحیم رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”ہمیں ایک سال حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قحط کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے راشن کے طور پر ہمیں کھجوریں دیں۔ جب کھجوریں کھا رہے ہوتے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرتے تو کہتے: ”دو کھجوریں ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے“، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے: ”مگر اس صورت میں کہ کھانے والا اپنے ساتھی سے اجازت لے لے۔“ شعبہ رحمہ اللہ نے کہا کہ حدیث میں اجازت والا ٹکڑا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5446]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَنَا سَنَةٌ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا، فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ ہم بعض اہل عراق کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے۔ وہاں ہمیں قحط میں مبتلا ہونا پڑا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھانے کے لیے ہمارے پاس کھجور بھجوایا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ہماری طرف سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے وقت) دو کھجور کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 2455]
حضرت جبلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اہل عراق کے ہاں ایک شہر میں تھے کہ ہمیں قحط سالی نے آ لیا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھجور کھلایا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو دو کھجوریں ایک بار اٹھا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ ہاں، تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اجازت لے لے تو جائز ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 2455]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2490
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا، فَيَقُولُ: لَا تَقْرُنُوا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ ہمارا قیام مدینہ میں تھا اور ہم پر قحط کا دور دورہ ہوا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھجور کھانے کے لیے دیتے تھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرتے ہوئے یہ کہہ کر جایا کرتے تھے کہ دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر نہ کھانا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دوسرے ساتھی کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 2490]
حضرت جبلہ بن سحیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دفعہ مدینہ طیبہ میں قحط سالی سے دوچار ہوئے تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے تو فرماتے: ”کھجوریں ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملا کر کھانے سے منع کیا ہے، الا یہ کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اجازت حاصل کر لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 2490]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة