صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب الصيد إذا غاب عنه يومين أو ثلاثة:
باب: جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو دہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 5484
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَأَمْسَكَ وَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا خَالَطَ كِلَابًا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهَا فَأَمْسَكْنَ وَقَتَلْنَ، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ، وَإِنْ رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَوَجَدْتَهُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ لَيْسَ بِهِ إِلَّا أَثَرُ سَهْمِكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا اور بسم اللہ بھی پڑھی اور کتے نے شکار پکڑا اور اسے مار ڈالا تو اسے کھاؤ اور اگر اس نے خود بھی کھا لیا تو تم نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے پکڑا ہے اور اگر دوسرے کتے جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس کتے کے ساتھ شکار میں شریک ہو جائیں اور شکار پکڑ کر مار ڈالیں تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم نے شکار پر تیر مارا پھر وہ شکار تمہیں دو یا تین دن بعد ملا اور اس پر تمہارے تیر کے نشان کے سوا اور کوئی دوسرا نشان نہیں ہے تو ایسا شکار کھاؤ لیکن اگر وہ پانی میں گر گیا ہو تو نہ کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5484]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم نے اپنا کتا چھوڑا اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”بسم اللہ“ بھی پڑھی، پھر کتے نے شکار پکڑا اور اسے مار ڈالا تو اسے کھاؤ۔ اور اگر اس نے خود بھی کھا لیا ہو تو تم نہ کھاؤ کیونکہ اس نے یہ شکار اپنے لیے پکڑا ہے۔ اگر شکاری کتا دوسرے کتوں سے مل گیا جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا تھا اور وہ شکار پکڑ کر مار ڈالیں تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تمہیں یہ معلوم نہیں کہ شکار کس کتے نے مارا ہے۔ اگر تم نے شکار کو تیر مارا، پھر دو یا تین دن بعد تمہیں ملا اور اس پر تمہارے تیر کے نشان کے علاوہ دوسرا نشان نہیں تھا تو ایسا شکار بھی کھاؤ لیکن اگر وہ پانی میں گر گیا ہو تو نہ کھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5484]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِذَا أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ، قَالَ: فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى كَلْبٍ آخَرَ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابن ابی السفر کے واسطے سے بیان کیا، وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں، وہ عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کتے کے شکار کے متعلق) دریافت کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کر لے تو، تو اس (شکار) کو کھا اور اگر وہ کتا اس شکار میں سے خود (کچھ) کھا لے تو، تو (اس کو) نہ کھائیو۔ کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے۔ میں نے کہا کہ بعض دفعہ میں (شکار کے لیے) اپنے کتے چھوڑتا ہوں، پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر مت کھا۔ کیونکہ تم نے «بسم الله» اپنے کتے پر پڑھی تھی۔ دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 175]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (کتے کے شکار کے متعلق) دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کرے تو اسے کھا لے۔ اگر وہ کتا خود اس سے کچھ کھا لے تو اسے مت کھا، کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے کیا ہے۔“ میں نے پھر عرض کیا: بعض دفعہ میں اپنے کتے کو شکار کے لیے چھوڑتا ہوں، پھر اس کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے شکار کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی تھی، دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة