🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب الأرنب:
باب: خرگوش کا گوشت حلال ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5535
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغِبُوا، فَأَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا، أَوْ قَالَ: بِفَخِذَيْهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبِلَهَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ ہم مرالظہران میں تھے۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور تھک گئے پھر میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے دونوں کولہے یا (راوی نے بیان کیا کہ) اس کی دونوں رانیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5535]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے مرظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے لیکن تھک گئے۔ بالآخر میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کی دونوں رانیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5535]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2572
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، فَأَدْرَكْتُهَا، فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا، قَالَ:" فَخِذَيْهَا لَا شَكَّ فِيهِ"، فَقَبِلَهُ. قُلْتُ: وَأَكَلَ مِنْهُ، قَالَ: وَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: قَبِلَهُ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید بن انس بن مالک نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مرالظہران نامی جگہ میں ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ لوگ (اس کے پیچھے) دوڑے اور اسے تھکا دیا اور میں نے قریب پہنچ کر اسے پکڑ لیا۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاں لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے پیچھے کا یا دونوں رانوں کا گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ (شعبہ نے بعد میں یقین کے ساتھ) کہا کہ دونوں رانیں انہوں نے بھیجی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا میں نے پوچھا اور اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تناول بھی فرمایا؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں! کچھ تناول فرمایا تھا۔ اس کے بعد پھر انہوں نے کہا کہ آپ نے وہ ہدیہ قبول فرما لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 2572]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے مرالظہران میں ایک خرگوش بھگایا، لوگ اس کے پیچھے دوڑے لیکن تھک گئے، البتہ میں اسے پکڑنے میں کامیاب ہوگیا، میں اسے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا تو انہوں نے اسے ذبح کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا پچھلا حصہ یا رانیں بھجوائیں، پھر راوی نے کہا: اس میں شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رانیں بھجوائیں۔۔۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا۔ راویِ حدیث نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، اس سے کچھ کھایا، پھر اس کے بعد کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 2572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5489
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهَا حَتَّى لَغِبُوا فَسَعَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى أَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكَيْهَا أَوْ فَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مرالظہران (مکہ کے قریب ایک مقام) میں ہم نے ایک خرگوش کو ابھارا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ نے انہیں قبول فرما لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5489]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے «مَرُّ الظَّهْرَانِ» مرالظہران میں ایک خرگوش بھگایا، لوگ اس کے پیچھے بھاگے لیکن اسے پکڑ نہ سکے، البتہ میں اس کے پیچھے دوڑا اور اسے پکڑنے میں کامیاب ہو گیا اور اسے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے دونوں سرین اور دونوں رانیں پیش کیں تو آپ نے انہیں قبول فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5489]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں