صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب ذات الجنب:
باب: ذات الجنب (نمونیہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5720
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ"، قَالَ أَنَسٌ: كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
ہم سے عارم نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا کہ ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5720]
حضرت حماد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ایوب کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں، ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان تحریر شدہ احادیث میں حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی“۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”پسلی کے درد کی وجہ سے مجھے داغ دیا گیا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے، اس وقت حضرت ابو طلحہ، حضرت انس بن نضر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی حاضر تھے اور مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ دیا تھا۔““ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5720]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5721
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ"، قَالَ أَنَسٌ: كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
ہم سے عارم نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا کہ ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5721]
حضرت حماد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایوب رحمہ اللہ کے سامنے ابوقلابہ رحمہ اللہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں، ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ابوقلابہ نے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان تحریر شدہ احادیث میں حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: ”پسلی کے درد کی وجہ سے مجھے داغ دیا گیا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے، اس وقت حضرت ابوطلحہ، حضرت انس بن نضر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی حاضر تھے اور مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5721]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة