صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. باب ما يذكر فى الشيب:
باب: بڑھاپے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5897
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعَرًا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن موہب نے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال نکال کر دکھائے جن پر خضاب لگا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5897]
حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال نکال کر دکھائے جن پر خضاب لگا ہوا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5897]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5896
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ:" أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ، وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلَاثَ أَصَابِعَ مِنْ قُصَّةٍ فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الْإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا"
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا (راوی حدیث) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی اس پیالی میں بالوں کا ایک گچھا تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ (وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ڈبو دیتیں) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا (جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5896]
حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”مجھے گھر والوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کی ایک پیالی دے کر بھیجا (راویِ حدیث اسرائیل نے اپنی انگلیاں بند کر لیں، یعنی وہ پیالی بہت چھوٹی تھی) اس میں ایک گچھا تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے، جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا برتن بھیج دیتا۔“ (حضرت عثمان بن موہب رحمہ اللہ کہتے ہیں:) ”میں نے اس ڈبیہ میں جھانکا تو مجھے چند ایک سرخ بال دکھائی دیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5896]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة