🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب ما يصلى بعد العصر من الفوائت ونحوها:
باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً، رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 592]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات فجر سے پہلے اور دو رکعات عصر کے بعد پوشیدہ اور آشکارا دونوں حالتوں میں کبھی ترک نہ فرمائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں (صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح) امت کو گراں باری ہو، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 590]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قسم ہے اس (اللہ) کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے لے گیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعت کبھی ترک نہیں فرمائیں تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے جا ملے اور جب اللہ سے ملے تو اس وقت بوجہ ضعف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے تھک جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر نماز کی ادائیگی بیٹھ کر فرماتے تھے، یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعات ہمیشہ پڑھا کرتے تھے، لیکن انہیں مسجد میں نہیں پڑھتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر گراں نہ گزرے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے حق میں تخفیف پسند تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں