🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. باب حمل صاحب الدابة غيره بين يديه:
باب: جانور کے مالک کا دوسرے کو سواری پر اپنے آگے بٹھانا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5966
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ذُكِرَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ عِنْدَ عِكْرِمَةَ، فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَمَلَ قُثَمَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْفَضْلَ خَلْفَهُ، أَوْ قُثَمَ خَلْفَهُ وَالْفَضْلَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَيُّهُمْ شَرٌّ أَوْ أَيُّهُمْ خَيْرٌ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے کہ عکرمہ کے سامنے یہ ذکر آیا کہ تین آدمی جو ایک جانور پر چڑھیں اس میں کون بہت برا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو آپ قثم بن عباس کو اپنی سواری پر آگے اور فضل بن عباس کو پیچھے بٹھائے ہوئے تھے۔ یا قثم پیچھے تھے اور فضل آگے تھے (رضی اللہ عنہم) اب تم ان میں سے کسے برا کہو گے اور کسے اچھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5966]
حضرت ایوب سے روایت ہے کہ عکرمہ کے پاس ذکر کیا گیا کہ ایک سواری پر تین آدمیوں کا بیٹھنا بہت معیوب ہے تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ قثم کو آگے اور فضل کو اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے یا اس کے برعکس فضل کو آگے اور قثم کو پیچھے بٹھایا تھا۔ اب ان میں سے کون برا ہے اور کون اچھا ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5966]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1798
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَتْهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو بنو عبدالمطلب کے چند بچوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو (اپنی سواری کے) آگے بٹھا لیا اور دوسرے کو پیچھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 1798]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو بنی عبدالمطلب کے چند لڑکے آپ کے استقبال کے لیے گئے، ان میں سے ایک کو تو آپ نے اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں