🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب السمر مع الضيف والأهل:
باب: اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو (عشاء کے بعد) گفتگو کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ، قَالَ: فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي، فَلَا أَدْرِي، قَالَ: وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ، قَالَ: أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ، قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ، فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيئًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا، قَالَ: يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهَا، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ، مَا هَذَا؟ قَالَتْ: لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي، لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ، ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ، فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ سلیمان بن طرخان نے، کہا کہ ہم سے ابوعثمان نہدی نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی کہ اصحاب صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے (اصحاب صفہ میں سے کسی) کو اپنے ساتھ لیتا جائے۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ، ماں اور میں تھا۔ ابوعثمان راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے یہ کہا یا نہیں کہ میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لیے تھا یہ بھی تھے۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہر گئے۔ (اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا۔ صورت یہ ہوئی کہ) نماز عشاء تک وہیں رہے۔ پھر (مسجد سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھانا کھا لیا۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی (ام رومان) نے کہا کہ کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی، یا یہ کہ مہمان کی خبر نہ لی۔ آپ نے پوچھا، کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا۔ ام رومان نے کہا کہ میں کیا کروں آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کیا۔ کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پکارا اے غنثر! (یعنی او پاجی) آپ نے برا بھلا کہا اور کوسنے دئیے۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو! اللہ کی قسم! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ (آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا) (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا) اللہ گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے۔ اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی اتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ اپنی بیوی سے بولے۔ بنوفراس کی بہن! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ صبح تک آپ کے پاس رکھا رہا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا۔ اور معاہدہ کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ (اس قبیلہ کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے ان سب نے ان میں سے کھایا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا ہی کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 602]
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اصحابِ صفہ نادار لوگ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے متعلق) فرمایا تھا: جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہے، وہ تیسرا آدمی ساتھ لے جائے اور اگر چار کا ہو تو پانچواں یا چھٹا (ان میں سے لے جائے)۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ تین آدمی لے کر گئے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہمراہ دس آدمیوں کو لیا۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا کہ گھر میں اس وقت میں اور میرے والدین (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ام رومان رضی اللہ عنہا) تھے۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے یہ کہا یا نہیں کہ گھر میں میری اہلیہ اور خادم بھی تھا جو میرے اور میرے والد گرامی کے گھر میں مشترکہ طور پر کام کرتا تھا۔ الغرض حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رات کا کھانا کھا لیا اور تھوڑی دیر کے لیے وہاں ٹھہر گئے، پھر عشاء کی نماز پڑھ لی گئی، لوٹ کر پھر تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کا کھانا تناول فرمایا۔ اس کے بعد آپ کافی رات گئے اپنے گھر واپس آئے تو ان کی بیوی (رضی اللہ عنہا) نے کہا: تم اپنے مہمانوں یا مہمان کو چھوڑ کر کہاں اٹک گئے تھے؟ وہ بولے: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ کے آنے تک مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا۔ کھانا پیش کیا گیا لیکن وہ نہ مانے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں تو (مارے خوف کے) کہیں چھپ گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے غنثر! آپ نے بہت سخت سست کہا اور خوب کوسا، پھر مہمانوں سے گویا ہوئے: کھاؤ تمہیں خوشگوار نہ ہو، اور کہا: اللہ کی قسم! میں ہرگز نہ کھاؤں گا۔ (حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! ہم جب لقمہ لیتے تو نیچے سے زیادہ بڑھ جاتا تاآنکہ سب مہمان سیر ہو گئے اور جس قدر کھانا پہلے تھا اس سے کہیں زیادہ بچ گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب کھانا دیکھا کہ وہ ویسے ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے تو انہوں نے اپنی اہلیہ (رضی اللہ عنہا) سے فرمایا: اے قبیلہ بنو فراس کی بہن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! یہ کھانا اس وقت پہلے سے تین گنا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پھر اس میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ تناول فرمایا اور کہا کہ ان کی یہ قسم شیطان ہی کی طرف سے تھی۔ پھر ایک لقمہ اس سے (مزید) کھایا اور باقی ماندہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لے گئے اور وہ صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پڑا رہا۔ (حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا:) ہمارے اور ایک گروہ کے درمیان کچھ عہد تھا جس کی مدت گزر چکی تھی تو ہم نے بارہ آدمی علیحدہ کر دیے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ آدمی تھے۔ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر شخص کے ساتھ کتنے آدمی تھے۔ ان سب نے اس میں سے کھانا، یا جیسے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَرَّةً:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ أَوْ كَمَا، قَالَ: وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرٍ ثَلَاثَةً، قَالَ: فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ، قَالَ: امْرَأَتِي وَخَادِمِي بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ: امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ ضَيْفِكَ، قَالَ: أَوَعَشَّيْتِهِمْ، قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ فَذَهَبْتُ فَاخْتَبَأْتُ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ: كُلُوا، وَقَالَ: لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا، قَالَ، وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنَ اللُّقْمَةِ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلُ، فَنَظَرَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا شَيْءٌ أَوْ أَكْثَرُ، قَالَ: لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ، قَالَتْ: لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِمَّا قَبْلُ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ الشَّيْطَانُ يَعْنِي يَمِينَهُ، ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَتَفَرَّقْنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ غَيْرَ أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ، قَالَ: أَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا، قَالَ: وَغَيْرُهُ، يَقُولُ: فَعَرَفْنَا مِنَ الْعِرَافَةِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صفہ والے محتاج اور غریب لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ ایک تیسرے کو بھی اپنے ساتھ لیتا جائے اور جس کے گھر چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچواں آدمی اپنے ساتھ لیتا جائے یا چھٹے کو بھی یا آپ نے اسی طرح کچھ فرمایا (راوی کو پانچ اور چھ میں شک ہے) خیر تو ابوبکر رضی اللہ عنہ تین اصحاب صفہ کو اپنے ساتھ لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دس اصحاب کو لے گئے اور گھر میں، میں تھا اور میرے ماں باپ تھے۔ ابوعثمان نے کہا مجھ کو یاد نہیں عبدالرحمٰن نے یہ بھی کہا، اور میری عورت اور خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھروں میں کام کرتا تھا۔ لیکن خود ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا اور عشاء کی نماز تک وہاں ٹھہرے رہے (مہمانوں کو پہلے ہی بھیج چکے تھے) اس لیے انہیں اتنا ٹھہرنا پڑا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھا لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور تھا اتنا حصہ رات کا جب گزر گیا تو آپ گھر واپس آئے۔ ان کی بیوی نے ان سے کہا، کیا بات ہوئی۔ آپ کو اپنے مہمان یاد نہیں رہے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مہمانوں کو اب تک کھانا نہیں کھلایا؟ بیوی نے کہا کہ مہمانوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکار کیا۔ ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں مانے۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں تو جلدی سے چھپ گیا (کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے تھے)۔ آپ نے ڈانٹا، اے پاجی! اور بہت برا بھلا کہا، پھر (مہمانوں سے) کہا چلو اب کھاؤ اور خود قسم کھا لی کہ میں تو کبھی نہ کھاؤں گا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم، پھر ہم جو لقمہ بھی (اس کھانے میں سے) اٹھاتے تو جیسے نیچے سے کھانا اور زیادہ ہو جاتا تھا (اتنی اس میں برکت ہوئی) سب لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ رہا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو کھانا جوں کا توں تھا یا پہلے سے بھی زیادہ۔ اس پر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، اے بنی فراس کی بہن (دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہوا) انہوں نے کہا، کچھ بھی نہیں، میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم، کھانا تو پہلے سے تین گنا زیادہ معلوم ہوتا ہے، پھر وہ کھانا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کھایا اور فرمایا کہ یہ میرا قسم کھانا تو شیطان کا اغوا تھا۔ ایک لقمہ کھا کر اسے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے وہاں وہ صبح تک رکھا رہا۔ اتفاق سے ایک کافر قوم جس کا ہم مسلمانوں سے معاہدہ تھا اور معاہدہ کی مدت ختم ہو چکی تھی۔ ان سے لڑنے کے لیے فوج جمع کی گئی۔ پھر ہم بارہ ٹکڑیاں ہو گئے اور ہر آدمی کے ساتھ کتنے آدمی تھے یہ اللہ ہی جانتا ہے مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ آپ نے ان نقیبوں کو لشکر والوں کے ساتھ بھیجا۔ حاصل یہ کہ فوج والوں نے اس میں سے کھایا۔ یا عبدالرحمٰن نے کچھ ایسا ہی کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 3581]
حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اصحابِ صفہ بہت نادار اور مفلس لوگ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے آدمی کو ساتھ لے جائے اور جس کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچویں، چھٹے کو ساتھ لے جائے۔ یا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ تین مہمان لے آئے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دس مہمانوں کو لے کر گئے۔ بہرحال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر کے افراد سے تین آدمی زائد لائے تھے کیونکہ گھر میں میں (عبدالرحمان)، میرا باپ اور میری والدہ وغیرہ تھے۔ (راوی کہتا ہے کہ) مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے (عبدالرحمان رضی اللہ عنہما نے) بیوی بھی کہا تھا یا نہیں۔ ایک خادم جو میرے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں کام کرتا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کا کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا، پھر کچھ وقت وہاں ٹھہرے اور نمازِ عشاء وہیں ادا کی، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا کھانا تناول فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب کافی رات گزرنے کے بعد گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی نے کہا: آپ کو مہمانوں کا خیال نہ رہا تھا، کیا بات تھی؟ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا آپ نے مہمانوں کو ابھی تک کھانا نہیں کھلایا؟ بیوی نے عرض کیا: مہمانوں نے آپ کے آنے تک کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا، ہم نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا لیکن وہ نہیں مانے۔ عبدالرحمان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں تو وہاں سے (خوف کی وجہ سے) کسی دوسری جگہ چھپ گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (غصے میں آکر) کہا: اے کم عقل! اور مجھے بہت بُرا بھلا کہا، پھر مہمانوں سے کہا: کھانا کھاؤ۔ (اور قسم کھا کر کہا) میں تو اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم اس کھانے سے جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے وہ نیچے سے بڑھ کر پہلے سے زیادہ ہو جاتا تھا حتیٰ کہ سب لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا لیکن کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بغور ملاحظہ کیا تو کھانا جوں کا توں یا پہلے سے بھی زیادہ تھا۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: میری آنکھ کی ٹھنڈک! یہ تو پہلے سے تین گنا زیادہ ہے۔ تاہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کھایا اور فرمایا کہ میری وہ قسم شیطان کی طرف سے تھی۔ پھر انہوں نے دوبارہ اس میں سے کئی لقمے تناول فرمائے۔ بعد ازاں اسے اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے جو صبح کے وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا۔ اتفاق سے ہمارے اور دیگر لوگوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ میعاد ختم ہونے پر وہ لوگ آئے۔ ہم نے ان میں سے بارہ نمائندوں کا انتخاب کیا اور ہر نمائندے کے ساتھ کئی کئی آدمی تھے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کھانا ان کے پاس بھیجا اور تمام لوگوں نے اس میں سے کھانا کھایا، یا عبدالرحمان رضی اللہ عنہما نے کچھ ایسا ہی کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 3581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6140
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ تَضَيَّفَ رَهْطًا، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: دُونَكَ أَضْيَافَكَ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَافْرُغْ مِنْ قِرَاهُمْ قَبْلَ أَنْ أَجِيءَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَاهُمْ بِمَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: اطْعَمُوا، فَقَالُوا: أَيْنَ رَبُّ مَنْزِلِنَا؟ قَالَ: اطْعَمُوا، قَالُوا: مَا نَحْنُ بِآكِلِينَ حَتَّى يَجِيءَ رَبُّ مَنْزِلِنَا، قَالَ: اقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ فَإِنَّهُ إِنْ جَاءَ وَلَمْ تَطْعَمُوا لَنَلْقَيَنَّ مِنْهُ فَأَبَوْا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَجِدُ عَلَيَّ، فَلَمَّا جَاءَ تَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتُمْ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَسَكَتُّ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَسَكَتُّ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي لَمَّا جِئْتَ فَخَرَجْتُ، فَقُلْتُ: سَلْ أَضْيَافَكَ، فَقَالُوا: صَدَقَ أَتَانَا بِهِ قَالَ: فَإِنَّمَا انْتَظَرْتُمُونِي، وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ الْآخَرُونَ: وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: لَمْ أَرَ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ، وَيْلَكُمْ مَا أَنْتُمْ لِمَ لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ، هَاتِ طَعَامَكَ فَجَاءَهُ فَوَضَعَ يَدَهُ، فَقَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ الْأُولَى لِلشَّيْطَانِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا".
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید الجریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی میزبانی کی اور عبدالرحمٰن سے کہا کہ مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، میرے آنے سے پہلے انہیں کھانا کھلا دینا۔ چنانچہ عبدالرحمٰن کھانا مہمانوں کے پاس لائے اور کہا کہ کھانا کھائیے۔ انہوں نے پوچھا کہ ہمارے گھر کے مالک کہاں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ لوگ کھانا کھا لیں۔ مہمانوں نے کہا کہ جب تک ہمارے میزبان نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست قبول کر لیجئے کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے تک اگر آپ لوگ کھانے سے فارغ نہیں ہو گئے تو ہمیں ان کی خفگی کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے اس پر بھی انکار کیا۔ میں جانتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے۔ اس لیے جب وہ آئے میں ان سے بچنے لگا۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے کیا کیا؟ گھر والوں نے انہیں بتایا تو انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو پکارا! میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے پکارا! عبدالرحمٰن! میں اس مرتبہ بھی خاموش رہا۔ پھر انہوں نے کہا ارے پاجی میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو باہر آ جا، میں باہر نکلا اور عرض کیا کہ آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ مہمانوں نے بھی کہا عبدالرحمٰن سچ کہہ رہا ہے۔ وہ کھانا ہمارے پاس لائے تھے۔ آخر والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگوں نے میرا انتظار کیا، اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے بھی قسم کھا لی اللہ کی قسم جب تک آپ نہ کھائیں ہم بھی نہ کھائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بھائی میں نے ایسی خراب بات کبھی نہیں دیکھی۔ مہمانو! تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو۔ خیر عبدالرحمٰن کھانا لا، وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، پہلی حالت (کھانا نہ کھانے کی قسم) شیطان کی طرف سے تھی۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 6140]
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چند لوگوں کو مہمان بنایا اور عبدالرحمن سے کہا: ان مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا ہوں، میرے آنے سے پہلے پہلے انہیں کھانا کھلا دینا۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ گئے اور جو کھانا حاضر تھا وہ مہمانوں کے سامنے پیش کر دیا اور کہا: کھانا تناول فرمائیں۔ مہمانوں نے کہا: صاحب خانہ کہاں ہیں؟ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کھانا کھائیں۔ انہوں نے کہا: جب تک صاحب خانہ نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ہماری درخواست قبول کریں کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واپس آنے تک اگر آپ حضرات کھانے سے فارغ نہ ہوئے تو مجھے ان کی طرف سے خفگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کھانے سے انکار ہی کیا۔ میں جانتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے اس لیے جب وہ تشریف لائے تو میں ایک طرف ہو گیا۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟ گھر والوں نے انہیں صورت حال سے آگاہ کیا تو انہوں نے عبدالرحمن کہہ کر آواز دی۔ میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے فرمایا: اے جاہل! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سنتا ہے تو میرے پاس آ جا۔ چنانچہ میں باہر نکلا اور (مہمانوں نے) کہا: عبدالرحمن سچ کہہ رہا ہے، وہ کھانا ہمارے پاس لایا تھا۔ آخر کار انہوں نے فرمایا: تم نے صرف میرے انتظار میں کھانا لیٹ کیا، اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے بھی قسم اٹھائی: «وَاللّٰهِ» اللہ کی قسم! جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آج رات جیسی تکلیف دہ رات نہیں دیکھی، مہمانو! افسوس ہے تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو؟ اے عبدالرحمن! کھانا لاؤ۔ چنانچہ وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر ہاتھ رکھ کر کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں)، پہلی حالت شیطان کی طرف سے تھی۔ پھر انہوں نے کھانا کھایا تو مہمانوں نے بھی (ان کے ساتھ) تناول کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 6140]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6141
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" جَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِضَيْفٍ لَهُ أَوْ بِأَضْيَافٍ لَهُ فَأَمْسَى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَتْ لَهُ أُمِّي: احْتَبَسْتَ عَنْ ضَيْفِكَ أَوْ عَنْ أَضْيَافِكَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: مَا عَشَّيْتِهِمْ؟ فَقَالَتْ: عَرَضْنَا عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا أَوْ فَأَبَى، فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ فَسَبَّ وَجَدَّعَ وَحَلَفَ لَا يَطْعَمُهُ، فَاخْتَبَأْتُ أَنَا، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ فَحَلَفَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَطْعَمُهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ، فَحَلَفَ الضَّيْفُ أَوِ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمَهُ أَوْ يَطْعَمُوهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَأَنَّ هَذِهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ قَبْلَ أَنْ نَأْكُلَ فَأَكَلُوا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے سلیمان ابن طرفان نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا ایک مہمان یا کئی مہمان لے کر گھر آئے۔ پھر آپ شام ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے، جب وہ لوٹ کر آئے تو میری والدہ نے کہا کہ آج اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر آپ کہاں رہ گئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کھانا ان کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کیا۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے (گھر والوں کی) سرزنش کی اور دکھ کا اظہار کیا اور قسم کھا لی کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں تو ڈر کے مارے چھپ گیا تو آپ نے پکارا کہ اے پاجی! کدھر ہے تو ادھر آ۔ میری والدہ نے بھی قسم کھا لی کہ اگر وہ کھانا نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گی۔ اس کے بعد مہمانوں نے بھی قسم کھا لی کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ غصہ کرنا شیطانی کام تھا، پھر آپ نے کھانا منگوایا اور خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھایا (اس کھانے میں یہ برکت ہوئی) جب یہ لوگ ایک لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانا اور بھی بڑھ جاتا تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہو رہا ہے، کھانا تو اور بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اب یہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا۔ جب ہم نے کھانا کھایا بھی نہیں تھا۔ پھر سب نے کھایا اور اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کھانے میں سے کھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 6141]
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک یا کئی مہمان لے کر گھر آئے، پھر آپ شام ہی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو ان سے میری والدہ نے کہا: آج مہمانوں کو چھوڑ کر آپ کہاں رہ گئے تھے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم نے کھانا پیش کیا تھا؟ لیکن انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سن کر بہت غصہ آیا اور اہل خانہ کو برا بھلا کہا، پھر قسم اٹھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گے۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تو (مارے ڈر کے) چھپ گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آواز دی: اے جاہل! (تو کدھر ہے؟) میری والدہ نے بھی قسم اٹھالی کہ اگر آپ کھانا نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائے گی۔ ادھر مہمانوں نے بھی قسم اٹھالی کہ جب تک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھانا نہیں کھائیں گے وہ (مہمان) بھی نہیں کھائیں گے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ غصہ اور برہمی شیطان کی طرف سے تھی۔ پھر آپ نے کھانا منگوایا، خود بھی کھایا اور مہمانوں کو بھی کھلایا۔ اس دوران میں جب وہ لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانا اور بڑھ جاتا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے قبیلہ بنو فراس کی بہن! یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا: میری آنکھوں کی ٹھنڈک! بلاشبہ اب تو یہ اس سے بھی زیادہ ہو چکا ہے جتنا یہ ہمارے کھانے سے پہلے تھا، پھر ان سب نے کھایا اور بچا ہوا کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کھانے میں سے کھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 6141]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں