صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. بَابُ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَاءِ:
باب: آسمان کی طرف نظر اٹھانا۔
حدیث نمبر: 6214
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْيُ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ".
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6214]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ ایک دن میں جا رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی۔ میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6214]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:" يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ [1] قُمْ فَأَنْذِرْ [2] " [سورة المدثر آية 1-2] ، فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ، تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، وَأَبُو صَالِحٍ ، وَتَابَعَهُ هِلَالُ بْنُ رَدَّادٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ بَوَادِرُهُ.
ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ *» ”اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔“ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ھلال بن رداد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ «فُؤَادُهُ» کی جگہ «بَوَادِرُهُ» نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 4]
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بندشِ وحی کا واقعہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”ایک بار میں جا رہا تھا کہ مجھے اچانک آسمان سے ایک آواز سنائی دی، میں نے نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اسے دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہو گیا۔ گھر لوٹ کر میں نے اہل خانہ سے کہا: مجھے چادر اوڑھاؤ، مجھے چادر اوڑھاؤ۔ (انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔) اس وقت اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [سورة المدثر: 1-5] ”اے لحاف میں لپٹنے والے! اٹھو اور خبردار کرو، اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو، اور اپنے کپڑے پاک رکھو، اور گندگی سے دور رہو۔“ پھر نزولِ وحی میں تیزی آ گئی اور لگاتار نازل ہونے لگی۔“ اس حدیث کو (لیث بن سعد سے یحییٰ بن بکیر کے علاوہ) عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح (عبداللہ بن صالح) نے بھی روایت کیا ہے۔ اور ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے (عقیل کے علاوہ) ہلال بن رداد نے بھی بیان کیا ہے، نیز یونس اور معمر نے (گزشتہ حدیث میں مذکور «فُؤَادُهُ» کے بجائے) «بَوَادِرُهُ» کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة