صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما يحذر من زهرة الدنيا والتنافس فيها:
باب: دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا۔
حدیث نمبر: 6431
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: أَتَيْتُ خَبَّابًا: وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا شَيْئًا، وَإِنَّا أَصَبْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ شَيْئًا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہا کہ میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اپنے مکان کی دیوار بنوا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو گزر گئے دنیا نے ان کے نیک اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کی لیکن ان کے بعد ہم کو اتنا پیسہ ملا کہ ہم اس کو کہاں خرچ کریں بس اس مٹی اور پانی یعنی عمارت میں ہم کو اسے خرچ کا موقع ملا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6431]
حضرت قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ وہ اپنے مکان کی دیوار بنا رہے تھے، انہوں نے فرمایا: ”ہمارے ساتھی جو گزر گئے ہیں، دنیا نے ان کے نیک اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کی لیکن ان کے بعد ہمیں اس قدر دولت ملی کہ ہمیں خرچ کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملتی، سوائے مٹی کے، یعنی عمارات بنانے میں اسے خرچ کر رہے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6431]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5672
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ:" دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ سَلَفُوا مَضَوْا وَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ، وَلَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ، لَدَعَوْتُ بِهِ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي هَذَا التُّرَابِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کو گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ہم نے (مال و دولت) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا اور کوئی محل نہیں پایا (لگے عمارتیں بنوانے) اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے انہوں نے کہا مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے مگر اس (کم بخت) عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 5672]
حضرت قیس بن ابوحازم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے، انہوں نے اپنے جسم میں سات جگہ داغ لگوائے تھے، انہوں نے فرمایا: ”ہمارے پہلے ساتھی جو گزر چکے ہیں دنیا ان کے اجر و ثواب کو کم نہیں کر سکی، لیکن ہم نے اتنا مال و متاع پایا ہے کہ ہم مٹی کے سوا اس کو رکھنے کی جگہ نہیں پاتے، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی تمنا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں موت کی دعا ضرور کرتا۔“ پھر ہم دوبارہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے، انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ مسلمان کو ہر چیز کا ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے، مگر اس عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 5672]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة