🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب عهد الله عز وجل:
باب: جو شخص علی عہداللہ کہے تو کیا حکم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6660
قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: فَمَرَّ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ؟ قَالُوا لَهُ: فَقَالَ الْأَشْعَثُ: نَزَلَتْ فِيَّ، وَفِي صَاحِبٍ لِي، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا.
سلیمان نے بیان کیا کہ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور پوچھا کہ عبداللہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے بیان کیا تو اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6660]
سلیمان نے بیان کیا کہ پھر حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے گزرے تو انہوں نے پوچھا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے؟ لوگوں نے انہیں بتایا تو حضرت اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت کریمہ میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرا ان سے ایک کنویں کے متعلق جھگڑا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6660]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2357
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 الْآيَةَ". فَجَاءَ الْأَشْعَثُ، فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي، فَقَالَ لِي: شُهُودَكَ؟ قُلْتُ: مَا لِي شُهُودٌ، قَالَ: فَيَمِينُهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفَ فَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِكَ تَصْدِيقًا لَهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی ایسی جھوٹی قسم کھائے جس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کے مال پر ناحق قبضہ کر لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ غضب ناک ہو گا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ آل عمران کی یہ) آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی دولت خریدتے ہیں آخر آیت تک۔ پھر اشعث رضی اللہ عنہ آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تم سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ یہ آیت تو میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرا ایک کنواں میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں تھا۔ (پھر جھگڑا ہوا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تو اپنے گواہ لا۔ میں نے عرض کیا کہ گواہ تو میرے پاس نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فریق مخالف سے قسم لے لے۔ اس پر میں نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو قسم کھا بیٹھے گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس بارے میں یہ آیت نازل فرما کر اس کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 2357]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے کوئی قسم اٹھائی جبکہ وہ اس میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة آل عمران: 77] بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی جھوٹی قسموں کے عوض تھوڑا سا دنیوی مال حاصل کرلیتے ہیں (تو ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا)۔ اس کے بعد حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا: تمہیں ابو عبدالرحمان (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کیا بیان کر رہے تھے؟ یہ آیت تو میرے متعلق نازل ہوئی تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ میرے چچا زاد کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا۔ (ہمارا اس کے متعلق جھگڑا ہو گیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تیرے پاس گواہ ہیں؟ میں نے عرض کیا: گواہ تو نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر (فریق ثانی سے) قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو قسم کھا جائے گا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان فرمائی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 2357]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں