🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب من صلى بالناس وهو لا يريد إلا أن يعلمهم صلاة النبى صلى الله عليه وسلم وسنته:
باب: کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" جَاءَنَا مَالِكُ بْن الْحُوَيْرِثِ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ، وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ أُصَلِّي، كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ فَقُلْتُ: لِأَبِي قِلَابَةَ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَ: مِثْلَ شَيْخِنَا هَذَا، قَالَ: وَكَانَ شَيْخًا يَجْلِسُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَبْلَ أَنْ يَنْهَضَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مالک بن حویرث (صحابی) ایک دفعہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم لوگوں کو نماز پڑھاؤں گا اور میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں ہے، میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں نماز کا وہ طریقہ سکھا دوں جس طریقہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ انہوں نے کس طرح نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ ہمارے شیخ (عمر بن سلمہ) کی طرح۔ شیخ جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو ذرا بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 677]
حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس اس مسجد میں ایک دفعہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے: میں تمہارے سامنے نماز پڑھتا ہوں، حالانکہ میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں وہ طریقہ بتاؤں جس طریقے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔ (راویِ حدیث ایوب نے کہا:) میں نے ابوقلابہ سے سوال کیا: انہوں نے کس طرح نماز پڑھی تھی؟ ابوقلابہ نے جواب دیا: ہمارے اس بزرگ (حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ) کی طرح۔ ہمارے وہ بزرگ جب پہلی رکعت میں سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے ذرا بیٹھ جایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 677]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 802
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يُرِينَا كَيْفَ كَانَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَنْصَبَ هُنَيَّةً، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ شَيْخِنَا هَذَا أَبِي بُرَيْدٍ، وَكَانَ أَبُو بُرَيْدٍ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ نَهَضَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں (نماز پڑھ کر) دکھلاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ چنانچہ آپ (ایک مرتبہ) کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے۔ پھر جب رکوع کیا اور پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے اس شیخ ابویزید کی طرح نماز پڑھائی۔ ابویزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 802]
حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں اوقاتِ نماز کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر دکھایا کرتے تھے، چنانچہ ایک دن وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو جم کر قیام کیا۔ پھر رکوع کیا تو وہ بھی جم کر کیا۔ اس کے بعد رکوع سے سر اٹھایا تو تھوڑی دیر تک سیدھے کھڑے رہے۔ ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے ہمیں ہمارے شیخ ابو یزید رحمہ اللہ کی طرح نماز پڑھائی، اور ابو یزید رحمہ اللہ جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہوتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَذَاكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ هُنَيَّةً، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ هُنَيَّةً فَصَلَّى صَلَاةَ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ شَيْخِنَا هَذَا، قَالَ أَيُّوبُ: كَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ يَفْعَلُونَهُ، كَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے بیان کیا، انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیوں نہ سکھا دوں۔ ابوقلابہ نے کہا یہ نماز کا وقت نہیں تھا (مگر آپ ہمیں سکھانے کے لیے) کھڑے ہوئے۔ پھر رکوع کیا اور تکبیر کہی پھر سر اٹھایا اور تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا اور تھوڑی دیر کے لیے سجدہ سے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور سجدہ سے تھوڑی دیر کے لیے سر اٹھایا۔ انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی ایوب سختیانی نے کہا کہ وہ عمرو بن سلمہ نماز میں ایک ایسی چیز کیا کرتے تھے کہ دوسرے لوگوں کو اس طرح کرتے میں نے نہیں دیکھا۔ آپ تیسری یا چوتھی رکعت پر (سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہونے سے پہلے) بیٹھتے تھے۔ (یعنی جلسہ استراحت کرتے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 818]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ اپنے شاگردوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق خبر نہ دوں؟ راوی حدیث کہتا ہے کہ وہ کسی فرض نماز کا وقت نہ تھا۔ آپ کھڑے ہوئے اور قیام کیا، پھر رکوع کیا۔ بعد ازاں «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا۔ اس کے بعد اپنا سر اٹھایا تو کچھ دیر کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک اٹھائے رکھا۔ (اس طرح) انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی سی نماز پڑھی۔ (راوی حدیث) حضرت ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا کام کرتے تھے جو ہم نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، چنانچہ وہ تیسری اور چوتھی رکعت (کے درمیان) میں بیٹھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنْ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ أَيُّوبُ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: وَكَيْفَ كَانَتْ صَلَاتُهُ؟ قَالَ: مِثْلَ صَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ، قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ عَنِ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَامَ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھا رہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ میں صرف تم کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی کریم کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اللہ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح۔ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 824]
حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور ہماری اس مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی، نیز فرمایا کہ میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں، میرا نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں لیکن میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے کس طرح دیکھا؟ (راوی حدیث) ایوب کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے کہا: تو پھر حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہمارے اس شیخ، یعنی عمرو بن سلمہ کی نماز کی طرح۔ ایوب کہتے ہیں کہ وہ شیخ پوری طرح «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور جب اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھاتے تو بیٹھ جاتے، زمین پر ٹیک لگا کر پھر اٹھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں