صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب ذكر الدجال:
باب: دجال کا بیان۔
حدیث نمبر: 7122
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: قَالَ لِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ:" مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مَا سَأَلْتُهُ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي: مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ، قُلْتُ: لِأَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهَرَ مَاءٍ، قَالَ: هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے بیان کیا، کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دجال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، فرمایا کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7122]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: دجال کے متعلق جس قدر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا؟“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7122]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3057
وَقَالَ سَالِمٌ: قَالَ: ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ:" إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
سالم نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا ‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی ‘ جو اس کی شان کے لائق تھی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا ‘ اور فرمایا کہ میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے) ڈراتا ہوں ‘ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو ‘ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی ‘ اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3057]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہو گئے اور اللہ کی شایان شان تعریف کی، پھر دجال کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں دجال سے خبردار کرتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس کے فتنے سے آگاہ کیا تھا مگر میں تمہیں ایک ایسی نشانی بتلاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی۔ تمہیں علم ہونا چاہیے کہ دجال کانا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ یک چشم (کانا) نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3057]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة