🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب في بيان الإيمان بالله وشرائع الدين:
باب: اسلام کے ارکان پوچھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 12 ترقیم شاملہ: -- 102
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ، فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: " فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ،؟ قَالَ: اللَّهُ، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟ قَالَ: اللَّهُ، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: اللَّهُ، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ، وَخَلَقَ الأَرْضَ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا؟ قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا؟ قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا؟ قَالَ: صَدَقَ "، قَالَ ثُمَّ وَلَّى: قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَئِنْ صَدَقَ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ "،
ہاشم بن قاسم ابونضر نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت کے حوالے سے یہ حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (غیر ضروری طور پر) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے سے روک دیا گیا تو ہمیں بہت اچھا لگتا تھا کہ کوئی سمجھ دار بادیہ نشیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کرے اور ہم (بھی جواب) سنیں، چنانچہ ایک بدوی آیا اور کہنے لگا، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا، اس نے ہم سے کہا کہ آپ نے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے پوچھا: آسمان کس نے بنایا ہے؟ آپ نے جواب دیا: اللہ نے۔ اس نے کہا: زمین کس نے بنائی؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے۔ اس نے سوال کیا: یہ پہاڑ کس نے گاڑے ہیں اور ان میں جو کچھ رکھا ہے کس نے رکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے۔ بدوی نے کہا: اس ذات کی قسم ہے جس نے آسمان بنایا، زمین بنائی اور یہ پہاڑ نصب کیے! کیا اللہ ہی نے آپ کو (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں! اس نے کہا: آپ کے قاصد نے بتایا ہے کہ ہمارے دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس نے درست کہا۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ ہی نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں! اس نے کہا: آپ کے ایلچی کا خیال ہے کہ ہمارے ذمے ہمارے مالوں کی زکاۃ ہے۔ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ بدوی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا! کیا اللہ ہی نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں! اعرابی نے کہا: آپ کے ایلچی کا خیال ہے کہ ہمارے سال میں ہمارے ذمے ماہ رمضان کے روزے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس نے صحیح کہا۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ ہی نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہ کہنے لگا: آپ کے بھیجے ہوئے (قاصد) کا خیال ہے کہ ہم پر بیت اللہ کا حج فرض ہے، اس شخص پر جو اس کے راستے (کو طے کرنے) کی استطاعت رکھتا ہو۔ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا:) پھر وہ واپس چل پڑا اور (چلتے چلتے) کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نہ ان پر کوئی اضافہ کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ کر دکھایا تو یقیناً جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 102]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں (بلا ضرورت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے سے روک دیا گیا تھا، تو ہمیں اس بات سے خوشی ہوتی تھی کہ کوئی سمجھ دار بدوی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے اور ہم سنیں۔ تو ایک بدوی آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا ایلچی ہمارے پاس آیا، اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے پوچھا: تو آسمان کس نے بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ نے۔ اس نے کہا: تو زمین کو کس نے بنایا ہے؟ ارشاد ہوا: اللہ نے۔ اس نے سوال کیا: تو یہ پہاڑ کس نے گاڑے ہیں اور ان میں جو کچھ رکھا ہے، کس نے رکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ بدوی نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آسمان بنایا، زمین بنائی اور یہ پہاڑ نصب کیے، کیا اللہ ہی نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں۔ اس نے پوچھا: آپ کے قاصد نے کہا ہمارے ذمے دن رات میں پانچ نمازیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے درست کہا۔ اس نے کہا: تو اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، کیا اللہ ہی نے آپ کو یہ حکم دیا (کہ ہم پانچ نمازیں ادا کریں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں۔ (یہ اللہ ہی کا حکم ہے) اس نے سوال کیا: آپ کے ایلچی کا گمان ہے ہمارے ذمے ہمارے مالوں کی زکوٰۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس نے سچ کہا۔ بدوی نے کہا: تو اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو رسول بنایا، کیا اللہ ہی نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں۔ اعرابی نے کہا: آپ کے پیغامبر کا خیال ہے ہمارے سال میں ہمارے ذمے ماہِ رمضان کے روزے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے صحیح کہا۔ اس نے کہا: تو جس نے آپ کو بھیجا ہے اس کی قسم! کیا اللہ ہی نے آپ کو یہ حکم دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں۔ بدوی نے کہا: آپ کے ایلچی نے کہا ہمارے ذمے بیت اللہ کا حج ہے، اس پر جو اس تک پہنچ سکتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس نے سچ کہا۔ صحابی بیان کرتے ہیں: پھر وہ واپس چل پڑا اور چلتے چلتے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا، میں ان پر اضافہ کروں گا نہ ہی ان میں کمی کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو یقیناً جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 12
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى العلم، باب: ما جاء فى العلم وقوله تعالى: ﴿ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴾ و تعليقا برقم (63) والترمذى فى ((جامعه)) فى الزكاة، باب: ماجاء اذا اديت الزكاة فقد قضيت ما عليك برقم (619) والنسائي فى ((المجتبى)) فى الصوم، باب: وجوب الصيام برقم (2090) انظر تحفة الاشواق (404)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 12 ترقیم شاملہ: -- 103
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : كُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ، أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ.
بہز نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں قرآن مجید میں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ (بلا ضرورت) کسی چیز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں۔ اس کے بعد (بہز نے) اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 103]
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ہمیں قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بلا خاص ضرورت کے) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت کر دی گئی، بہز نے بھی ہاشم بن القاسم جیسے الفاظ میں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 12
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه في الحديث السابق برقم (102)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں