🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب اعتدال اركان الصلاة وتخفيفها في تمام:
باب: نماز میں تمام ارکان اعتدال سے پورا کرنے اور نماز کو ہلکا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 471 ترقیم شاملہ: -- 1057
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ حَامِدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ، فَرَكْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ ".
ہلال بن ابی حمید نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں (پڑھی جانے والی) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام، رکوع، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے (بیٹھنے) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریباً برابر پایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1057]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پر غور کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام، رکوع، رکوع کے بعد قومہ میں اعتدال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ، دونوں سجدوں کے درمیان کے جلسہ، دوسرے سجدہ اور سلام پھیرنے کے بعد رخ پھیرنے کے لیے بیٹھنے کو تقریباً برابر پایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1057]
ترقیم فوادعبدالباقی: 471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 471 ترقیم شاملہ: -- 1058
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ، قَدْ سَمَّاهُ زَمَنَ ابْنِ الأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّي، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ، بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "، قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَقَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَلَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ هَكَذَا،
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص (حکم نے اس کا نام لیا) کوفہ (کے اقتدار) پر قابض ہو گیا، اس نے ابوعبیدہ بن عبداللہ (بن مسعود) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ نماز پڑھاتے تھے، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: اے اللہ! ہمارے رب! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے عظمت و ثنا کے سزاوار! جو تو دے اس کو کوئی بھی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے۔ (صرف تیری رحمت ہے جو فائدہ دے سکتی ہے۔) حکم نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (قیام)، آپ کا رکوع اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے، آپ کے سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان (والا بیٹھنے) کا وقفہ تقریباً برابر تھے۔ شعبہ نے کہا: میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے، ان کی نماز اس طرح نہیں ہوتی تھی۔ (وہ ثقہ تھے۔ ان کی روایت قابل اعتماد ہے چاہے وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکتے ہوں۔) [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1058]
حضرت حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن اشعت کے زمانہ میں ایک شخص کوفہ پر غالب آ گیا، (حکم نے اس کا نام لیا تھا، اور وہ مطر بن ناجیہ تھا) اس نے ابو عبیدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ کو لوگوں کی امامت کروانے کا حکم دیا تو وہ نماز پڑھاتے تھے، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: اے اللہ! تو اس قدر حمد و ستائش کا حقدار ہے جس سے سب آسمان، زمین اور ان سے جو چیز تو چاہے بھر جائے، اے ثنا اور مجد (عظمت و بزرگی) کے لائق جو تو دے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا، اور جو تو نہ دینا چاہے (روک لے) وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا، اور نہ کسی محنت و کوشش کرنے کی کوشش تیرے مقابلہ میں اس کو فائدہ دے سکتی ہے یا کسی عظمت و بزرگی والے کی عظمت و دولت تیرے مقابلہ میں اس کو نفع دے سکتی ہے۔ (جَد دولت و تونگری یا عظمت) حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے کہا: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (قیام) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان والا جلسہ یہ سب تقریباً برابر تھے۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے یہ حدیث عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کو بتائی تو انہوں نے کہا، میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کو دیکھا ہے، وہ اس کیفیت سے نماز نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 471 ترقیم شاملہ: -- 1059
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ، لَمَّا ظَهَرَ عَلَى الْكُوفَةِ، أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر قابض ہو گیا تو اس نے ابوعبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ... اور (پوری) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1059]
حضرت حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر غالب آیا، اس نے ابو عبیدہ رحمہ اللہ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا اور مذکورہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1059]
ترقیم فوادعبدالباقی: 471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں