صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
40. باب ما يقول إذا رفع راسه من الركوع:
باب: جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے۔
ترقیم عبدالباقی: 478 ترقیم شاملہ: -- 1072
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "،
ہشیم نے بشیر سے بیان کیا: ہمیں ہشام بن حسان نے قیس بن سعد سے خبر دی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ”اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات وملء الأرض وما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد، أهل الثناء والمجد، لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد。“ (اے اللہ، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے آسمان اور زمین بھر اور ان دونوں کے درمیان کی وسعت بھر اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر۔ اے تعریف اور بزرگی کے سزاوار! جو تو عنایت فرمائے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو محروم کر دے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1072]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ، ہمارے آقا! تیرے ہی لیے تعریف ہے، آسمانوں کو بھر کر، زمین بھر کر اور ان کے درمیان کا خلا بھر کر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے وہ بھر کر، اے تعریف و توصیف اور بزرگی کے حقدار جو چیز تو عنایت فرمائے اس کو کوئی چھین سکتا، اور جس سے تو محروم کردے وہ کوئی نہیں دے سکتا اور کسی صاحب اقتدار اور سلطنت کے لیے اس کا اقتدار تیرے مقابلہ میں سود مند نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1072]
ترقیم فوادعبدالباقی: 478
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 478 ترقیم شاملہ: -- 1073
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى قَوْلِهِ: وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مَا بَعْدَهُ.
حفص نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام بن حسان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان الفاظ تک روایت کی: ”وملء ما شئت من شيء بعد۔“ (اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر۔) انہوں (حفص) نے آگے کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1073]
امام صاحب اسےایک اور استاد سے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوع روایت بیان کرتے ہیں اور دعا صرف وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ تک نقل کرتے ہیں، بعد والے دعائیہ کلمات بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1073]
ترقیم فوادعبدالباقی: 478
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة