صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب السهو في الصلاة والسجود له:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 574 ترقیم شاملہ: -- 1293
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ، وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، وَخَرَجَ غَضْبَانَ، يَجُرُّ رِدَاءَهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، " فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے خالد (حذاء) سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو (سہو) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ غصے کی حالت میں، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ پہنچے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں! تو آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1293]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں چادر کھینچتے ہوئے نکلے، حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ گئے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو سجدے (سہو کے لیے) کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 574 ترقیم شاملہ: -- 1294
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ، فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَخَرَجَ مُغْضَبًا، " فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت میں سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہو گئے، ایک (لمبے) چوڑے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ پھر آپ غصے کے عالم میں نکلے اور چھوڑی ہوئی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1294]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت کے بعد سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر کمرے میں داخل ہونے لگے تو کھلے ہاتھوں والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں نکلے اور وہ رکعت جو چھوٹ گئی تھی پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر بھول کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1294]
ترقیم فوادعبدالباقی: 574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة