صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب استحباب التعوذ من عذاب القبر:
باب: تشہد اور سلام کے درمیان عذاب قبر اور عذاب جہنم اور زندگی اور موت اور مسیح دجال کے فتنے اور گناہ اور قرض سے پناہ مانگنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 586 ترقیم شاملہ: -- 1321
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ، يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، قَالَتْ: فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " إِنَّ عَجُوزَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، دَخَلَتَا عَلَيَّ، فَزَعَمَتَا أَنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ، يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَقَالَ: " صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ "، قَالَتْ: فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلَاةٍ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ابووائل (شقیق بن سلمہ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انہوں نے کہا: قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کے لیے ہاں تک کہنا گوارا نہ کیا، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مدینہ کی بوڑھی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں، ان کا خیال تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ آپ نے (کچھ دن گزرنے کے بعد) فرمایا: ”ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ (قبروں میں) ان (کافروں، گنہگاروں) کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسے مویشی بھی سنتے ہیں۔“ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1321]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس مدینہ کی دو بوڑھی یہودی عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا: ”قبر والوں کو قبر میں عذاب ہوتا ہے“، میں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کرنا گوارا نہ کیا، وہ چلی گئیں اور میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس مدینہ کی یہودی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں آئیں اور کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، انہیں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ مویشی بھی سنتے ہیں“، اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے پایا۔ «لَمْ أَنْعَمْ» ”میں نے اس کو اچھا نہ سمجھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 586 ترقیم شاملہ: -- 1322
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَفِيهِ قَالَتْ: وَمَا صَلَّى صَلَاةً بَعْدَ ذَلِكَ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
(ابووائل کے بجائے) اشعث کے والد (ابوشعثاء سلیم محاربی) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی۔ اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے اس کے بعد جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سنا کہ آپ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1322]
مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر اس صورت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة