صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب نزول السكينة لقراءة القرآن:
باب: قرأت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا۔
ترقیم عبدالباقی: 795 ترقیم شاملہ: -- 1856
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ".
ابوخثیمہ نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی سورہ کہف کی تلاوت کر رہا تھا اور اس کے پاس ہی دو رسیوں میں بندھا ہوا گھوڑا (موجود) تھا، تو اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1856]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سورہ کہف کی تلاوت کر رہا تھا اور اس کے پاس دو لمبی رسیوں میں بندھا ہوا گھوڑا کھڑا تھا، اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا اور وہ بدلی گھومنے اور قریب آنے لگی اور اس کا گھوڑا اس سے بدکنے لگا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ماجرا سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سکینت تھی، جو قرآن کی قرأت کی بنا پر اتری۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 795 ترقیم شاملہ: -- 1857
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ، وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، فَنَظَرَ، فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْرَأْ فُلَانُ، فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی نے سورہ کہف کی قراءت کی، گھر میں (اس وقت) ایک چوپایہ بھی تھا، وہ بدکنے لگا، اس شخص نے دیکھا کہ جانور کے اوپر دھندلی بدلی تھی جو اس پر چھائی ہوئی ہے، تو اس نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، آپ نے فرمایا: "اے شخص! پڑھا کرو، یہ تو سکینت تھی جو قراءت کے وقت اتری (یا قرآن کی خاطر نازل ہوئی۔)" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1857]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورہ کہف کی قراءت شروع کی اور گھر میں ایک چوپایہ تھا، وہ بدکنے لگا، اس نے دیکھا کہ جانور کو دھند یا بدلی نے ڈھانپا ہوا ہے، اس نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے شخص! پڑھتے رہتے، یہ تو سکینت تھی جو قراءت کے وقت اتری یا قرآن کی خاطر نازل ہوئی۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1857]
ترقیم فوادعبدالباقی: 795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 795 ترقیم شاملہ: -- 1858
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: فَذَكَرَا نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: تَنْقُزُ.
عبدالرحمن بن مہدی اور داؤد نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ آگے دونوں (عبدالرحمن بن مہدی اور داؤد) نے سابقہ حدیث کے مانند ذکر کیا، البتہ اتنا فرق ہے کہ انہوں نے ("تنفر" وہ بدکنے لگا کے بجائے) «تنقز» (وہ اچھلنے لگا) کہا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1858]
امام صاحب نے اپنے دوسرے استاد سے روایت بیان کی ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں «تَنْفِرُ» کی بجائے «تَنْقُزُ» ہے۔ «تَنْفِرُ» کا معنی ”بدکنا“ ہے اور «تَنْقُزُ» کا ”اچھلنا کودنا کہ وہ کودنے لگا یا اچھلنے لگا“ ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1858]
ترقیم فوادعبدالباقی: 795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة