صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
48. باب بيان ان القرآن على سبعة احرف وبيان معناه:
باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 821 ترقیم شاملہ: -- 1906
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا ".
محمد بن جعفر غندر نے شعبہ سے روایت کی، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے اضاۃ (بارانی تالاب) کے پاس تشریف فرما تھے۔ کہا: آپ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف (قراءت کی صورت) پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو (درگزر) اور اس کی مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پر قرآن پڑھے۔ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ٹھیک پڑھیں گے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1906]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے تالاب کے پاس تشریف فر ما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے اس کے حضور عفواور بخشش کا سوال کرتا ہوں میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ پھر جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن دو حرفوں پر پڑھا ئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”میں اللہ تعالیٰ سے اس کے حضور عفو اور بخشش خواستگار ہوں،اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو تین حرفوں پر پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے اس کے عفو ودرگذراور مغفرت کا سوال کرتا ہوں، میری امت کے بس میں نہیں۔“ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو قرآن سات حرفوں پر پڑھائیں، وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے، صحیح پڑھیں گے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1906]
ترقیم فوادعبدالباقی: 821
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 821 ترقیم شاملہ: -- 1907
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
معاذ عنبری نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1907]
امام صاحب یہی حدیث دوسری سند سے لائے ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1907]
ترقیم فوادعبدالباقی: 821
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة