🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 932 ترقیم شاملہ: -- 2154
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ "، فَقَالَتْ: وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ ". وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ "، وَقَدْ وَهِلَ، إِنَّمَا قَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ "، ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80، وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22، يَقُولُ: حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ.
ابواسامہ نے ہشام سے اور انہوں نے اپنے والد عروہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً یہ بیان کرتے ہیں: میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: وہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: ’اس (مرنے والے) کو اس کی غلطی یا گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اسی وقت اس پر رو رہے ہیں۔‘ اور یہ (بھول) ان (عبداللہ رضی اللہ عنہما) کی اس روایت کے مانند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے اس کنویں (کے کنارے) پر کھڑے ہوئے جس میں بدر میں قتل ہونے والے مشرکوں کی لاشیں تھیں تو آپ نے ان سے جو کہنا تھا کہا (اور فرمایا): ’(اب) جو میں کہہ رہا ہوں وہ اس کو بخوبی سن رہے ہیں۔‘ حالانکہ (اس بات میں بھی) وہ بھول گئے، آپ نے تو فرمایا تھا: ’یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ان سے (دنیا میں) جو کہا کرتا تھا وہ حق تھا۔‘ پھر انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے (یہ آیتیں پڑھیں): «وَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى» (اور بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا) اور «وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ» (اور تو ہرگز انہیں سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہیں) (گویا آپ یہ کہہ رہے ہیں: جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں (اور وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ جو ان سے کہا گیا تھا وہی سچ ہے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دو روایتوں کا اصل بیان محفوظ نہیں رکھ سکے))۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2154]
عروہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان بیان کرتے ہیں کہ میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔ تو انھوں نے کہا: وہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما غلطی کر گئے(بھول کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس یہ فرمایا تھا: اسے اس کی غلطی یا گناہ کے سبب عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اس پر رو رہے ہیں اور یہ ان کے اس قول کی طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن، اس کنویں پر کھڑے ہوئے جس میں بدر میں قتل ہونے والے مشرکوں کی لاشیں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو بات کہی (یعنی ھل وجدتم ما وعدتم جس چیز کی تمہیں دھمکی دی جاتی تھی اس کو پا کیا) یہ نہیں کہا کہ میں جو کہہ رہا ہوں، یہ سن رہے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتانے میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما غلطی کر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس یہ کہا تھا (انہوں نے جان لیا ہے، میں انہیں جو کچھ بتایا کرتا تھے وہ حق ہے۔ پھر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آیت پڑھی: آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ (نحل،آیت:80) اور آپ قبروالوں کو نہیں سنا سکتے۔ (فاطر،آیت:22) آپ اس وقت کی خبردے رہے ہیں جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2154]
ترقیم فوادعبدالباقی: 932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 932 ترقیم شاملہ: -- 2155
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ.
وکیع نے بیان کیا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ابواسامہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنائی اور ابواسامہ کی (مذکورہ بالا) حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2155]
یہی حدیث امام صاحب اپنے دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں لیکن ابواسامہ کی مذکورہ بالا حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2155]
ترقیم فوادعبدالباقی: 932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 932 ترقیم شاملہ: -- 2156
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا ".
عمرہ بنت عبدالرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، (اس موقع پر) ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمن کو معاف فرمائے! یقیناً انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت (کے جنازے) کے پاس سے گزرے جس پر آہ و بکا کی جا رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ’یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2156]
عمرہ بنت عبدالرحمان بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا، جبکہ انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کایہ قول بتایا گیا کہ میت کو زندہ کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔ توعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمان کو معاف فرمائے۔ یقیناً انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے،بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت جس پر رویا جا رہا تھا، کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں، اور اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2156]
ترقیم فوادعبدالباقی: 932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں