صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب فضل النفقة والصدقة على الاقربين والزوج والاولاد والوالدين ولو كانوا مشركين:
باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
ترقیم عبدالباقی: 1003 ترقیم شاملہ: -- 2324
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہیں۔ یا (خالی ہاتھ واپسی سے) خائف ہیں۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2324]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ میرے پاس آئی ہے اور وہ (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہے (اور محرومی سے) خائف بھی ہے (کہ شاید میں اسے کچھ نہ دوں)، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1003
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1003 ترقیم شاملہ: -- 2325
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي؟، قَالَ: " نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ".
ہشام کے ایک اور شاگرد ابواسامہ نے اسی سند کے ساتھ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: قریش کے ساتھ معاہدے کے زمانے میں، جب آپ نے ان سے معاہدہ صلح کیا تھا، میری والدہ آئیں، وہ مشرک تھیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کی: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (مجھ سے صلہ رحمی کی) امید رکھتی ہیں تو کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔" [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2325]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، قریش کے ساتھ معاہدہِ صلح کے دور میں میری والدہ آئیں اور وہ مشرکہ تھیں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ (صدقہ کی) خواہش مند ہے، تو کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1003
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة