🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب إعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام وتصبر من قوي إيمانه:
باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1062 ترقیم شاملہ: -- 2447
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ، ثُمَّ قَالَ: " فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا جَرَمَ، لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا.
منصور نے ابووائل (شقیق) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (مال غنیمت کی) تقسیم میں ترجیح دی۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے، عینیہ کو بھی اتنے ہی (اونٹ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن (مال غنیمت کی) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں (اس بات سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی۔ (غصے سے) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے! انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے دل میں سوچا آئندہ کبھی (اس قسم کی) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2447]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو غنیمت کی تقسیم میں ترجیح دی، اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے عیینہ کو بھی اتنے ہی اونٹ دیے اور دوسرے عرب سرداروں کو بھی دیے، اس طرح اس دن تقسیم غنیمت میں ان کو ترجیح دی تو ایک آدمی کہنے لگا۔ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں عدل و انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تو میں نے دل میں کہا اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا تو میں آپ کی خدمت میں حاضرہوا اور اس کی بات کی آپ کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل کر سرخ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر عدل کون کرے گا؟) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ موسی علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔ انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی۔ (ان کی قوم نے ان پر ہر قسم کے الزامات عائد کیے اور مخالفت کی) اور انھوں نے صبر سے کام لیا تو میں نے دل میں سوچا۔ آئندہ کبھی بھی میں آگے اس قسم کی بات نہیں بتاؤں گا۔ (آپ کو تکلیف و اذیت کی بات بتا کر آزردہ خاطر نہیں کروں گا) صِرف ایک قسم کا سرخ رنگ ہے جس سے چمڑا رنگا جاتا ہے۔ اور اس کا اطلاق خون پر بھی ہو جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1062
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1062 ترقیم شاملہ: -- 2448
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " قَدْ أَوُذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ".
اعمش نے (ابووائل) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ (مال) تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتا دیا، اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے، آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی، کاش! یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا، کہا: پھر آپ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2448]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک دفعہ مال تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کو راضی کرنے کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا، اور چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی غصہ میں آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا حتی کہ میں نے خواہش کی کاش میں آپ کو یہ بات نہ بتاتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی اور انھوں نے صبر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2448]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1062
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں