🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب كون الشرك اقبح الذنوب وبيان اعظمها بعده:
باب: شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور اس کے بعد بڑے گناہوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 86 ترقیم شاملہ: -- 257
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَال إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ".
منصور نے ابووائل سے، انہوں نے عمرو بن شرحبیل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جبکہ تمہیں اسی (اللہ) نے پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کی: واقعی یہ بہت بڑا (گناہ) ہے، کہا: میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ کہا: میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 257]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اللہ کے ہاں سب سے سنگین گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کا شریک اور مدِ مقابل کسی کو ٹھہراؤ حالانکہ وہ تمھارا خالق ہے۔ میں نے عرض کیا: کیا واقعی یہ سنگین ہے؟ میں نے پھر پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 86
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: قول اللہ تعالى ﴿ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ برقم (4207) - وفي باب: قوله: ﴿ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ﴾ برقم (4483) وفي الادب، باب: قتل الولد خشية ان ياكل معه برقم (5655) وفى المحاربين، باب: اثم الزناة برقم (6426) وفى الديات، باب: قول الله تعالى ﴿ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ﴾ برقم (6468) وفي التوحيد، باب: وما ذكر في خلق افعال العباد واكسابهم برقم (7082) وفي باب: قول الله تعالى ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾ برقم (7094) وابوداؤد في ((سننه)) في الطلاق، باب: تعظيم الزنا برقم (2310) والترمذي في ((جامعه)) في تفسير القرآن، باب: 26 ومن سورة الفرقان وقال: هذا حديث حسن صحیح برقم (3182) والنسائي في ((المجتبى)) 89/7 فى التحريم، باب: ذكر اعظم الذنب واختلاف يحيى و عبدالرحمن على سفيان في حديث واصل عن أبي وائل عن عبد الله فيه - انظر ((التحفة)) برقم (9480)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 86 ترقیم شاملہ: -- 258
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ "، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68.
(منصور کے بجائے) اعمش نے ابووائل سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک (بنا کر) پکارو، حالانکہ اسی (اللہ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: یہ کہ تم اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس (بات) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود (بنا کر) نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے (قتل کرنا) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، حق کے بغیر قتل نہیں کرتے اور جو زنا نہیں کرتے (وہی رحمن کے مومن بندے ہیں۔) اور جو ان (کاموں) کا ارتکاب کرے گا، وہ سخت گناہ (کی سزا) سے دو چار ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 258]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا گناہ اللہ کے ہاں بڑا ہے؟ فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر قرار دو، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشہ سے قتل کردو کہ وہ تمھارے ساتھ کھائے گی۔ اس نے پوچھا پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کی تصدیق میں اتارا: جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الٰہ قرار نہیں دیتے اور اللہ نے جس جان کو محترم ٹھہرایا ہے (اس کے قتل کو حرام قرار دیا ہے) اس کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ان کا ارتکاب کرے گا وہ گناہ (کی سزا) سے دوچار ہو گا۔ (سورة الفرقان: 68) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 258]
ترقیم فوادعبدالباقی: 86
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (253)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں