🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب بيان الكبائر واكبرها:
باب: کبیرہ گناہوں اور اکبر الکبائر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 88 ترقیم شاملہ: -- 260
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْكَبَائِرِ، قَالَ: " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّورِ ".
خالد بن حارث نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی، آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 260]
حضرت انس رضی اللہ عنہ کبائر کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا (بڑا کبیرہ گناہ ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 260]
ترقیم فوادعبدالباقی: 88
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في كتاب الشهادات، باب: ما قيل في شهادة الزور وكتمان الشهادة برقم (2510) وفى الادب، باب: عقوق الولدين من الكبائر برقم (5632) وفي الديات، باب: قول الله تعالى: ﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا﴾ برقم (6477) والترمذى في ((جامعه)) في البيوع، باب: ما جاء في التغليظ في الكذب والزور ونحوه۔ وقال: حدیث انس حديث حسن صحیح غریب برقم (1207) وفي التفسير، باب: ومن سورة النساء وقال: هذا حديث حسن غریب صحیح برقم (3018) والنسائي في ((المجتبى))88/7-89 فى التحريم، باب: ذكر الكبرياء وفى القسامة، باب: تاويل قول الله عز وجل: ﴿ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا ﴾ 63/7 - انظر ((التحفة)) برقم (1077)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 88 ترقیم شاملہ: -- 261
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ، أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ، فَقَالَ: " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ قَالَ: قَوْلُ الزُّورِ، أَوَ قَالَ: شَهَادَةُ الزُّورِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا (یا آپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا) تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ (پھر) آپ نے فرمایا: کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ فرمایا: جھوٹ بولنا (یا فرمایا: جھوٹی گواہی دینا) شعبہ کا قول ہے: میرا ظن غالب یہ ہے کہ وہ جھوٹی گواہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 261]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا (یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال ہوا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ اور فرمایا: کیا میں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی تمہیں خبر نہ دوں؟ فرمایا: جھوٹ بولنا (یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا)۔ شعبہ رحمہ اللہ کا قول ہے میرا ظنِ غالب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی شہادت کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 261]
ترقیم فوادعبدالباقی: 88
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (256)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں