صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب ما يباح للمحرم بحج او عمرة وما لا يباح وبيان تحريم الطيب عليه:
باب: اس بات کا بیان کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ اور اس پر خوشبو کے حرام ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1178 ترقیم شاملہ: -- 2794
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " يَعْنِي الْمُحْرِمَ،
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”شلوار اس کے لیے (جائز) ہے جسے تہبند نہ ملے، اور موزے اس کے لیے جسے جوتے میسر نہ ہو،“ یعنی احرام باندھنے والے کے لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2794]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، وہ خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ”شلوار یا پاجامہ، اس کے لیے ہے جسے تہبند نہ ملے اور موزے اس کے لیے ہیں، جسے جوتے میسر نہ ہوں۔“ یعنی جب وہ محرم ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2794]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1178 ترقیم شاملہ: -- 2795
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ،
شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی کہ انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا، پھر یہی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2795]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے عمرو بن دینار ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ ”انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفات کے خطبہ میں یہ باتیں سنی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2795]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1178 ترقیم شاملہ: -- 2796
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ، غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ.
ابن عیینہ، ہشیم، سفیان ثوری، ابن جریج اور ایوب (سختیانی) ان تمام نے عمرو بن دینار سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کی، ان تمام میں سے اکیلے شعبہ کے علاوہ کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2796]
امام صاحب اپنے پانچ اور اساتذہ سے عمرو بن دینار ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، ”شعبہ کے سوا کسی نے بھی عرفات کے خطبہ کا تذکرہ نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2796]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة