صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب ما يباح للمحرم بحج او عمرة وما لا يباح وبيان تحريم الطيب عليه:
باب: اس بات کا بیان کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ اور اس پر خوشبو کے حرام ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1180 ترقیم شاملہ: -- 2798
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ، أَوَ قَالَ: أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟، قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى، يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، لَهُ غَطِيطٌ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: كَغَطِيطِ الْبَكْرِ، قَالَ: فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ، أَوَ قَالَ: أَثَرَ الْخَلُوقِ، وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ ".
ہمام نے کہا: ہمیں عطاء بن ابی رباح نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ (کے مقام) پر تھے، اس (کے بدن) پر جبہ تھا، اس پر زعفران ملی خوشبو (لگی ہوئی) تھی۔ یا کہا: زردی کا نشان تھا۔ اس نے کہا: آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: (اتنے میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا تان دیا گیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (اس عالم میں) دیکھوں جب آپ پر وحی اتر رہی ہو۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا:) (عمر رضی اللہ عنہ) کہنے لگے: کیا تمہیں پسند ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہو تو تم انہیں دیکھو؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارا اٹھایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس لینے کی بھاری آواز آ رہی تھی۔ صفوان نے کہا: میرا گمان ہے انہوں نے کہا:۔۔۔ جس طرح جوان اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دور ہوئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرے کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ (پھر اس نے فرمایا:) ”تم اپنے (کپڑوں) سے زردی (زعفران) کا نشان۔۔۔ یا فرمایا: خوشبو کا اثر۔۔۔ دھو ڈالو، اپنا جبہ اتار دو اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2798]
حضرت صفوان بن لیلیٰ بن امیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، وہ ایک جبہ (لمبا کوٹ) پہنے ہوئے تھا، جس پر ایک مخلوط خوشبو لگی ہوئی تھی یا اس پر زردی کا اثر تھا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہونے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا اور یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میری خواہش تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو، یعلیٰ کہتے ہیں عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیا تجھے پسند ہے کہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہو؟ پھر حضرت عمر صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لے رہے تھے، صفوان کہتے ہیں، میرا خیال ہے انہوں نے کہا، جیسے جوان اونٹ خراٹے لیتا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ کے بارے میں دریافت کرنے والا کہاں ہے؟ اپنے سے زردی کی چھاپ دور کر دے یا خُلوق مخلوط خوشبو کا اثر زائل کر دے اور اپنا جبہ اتار دے اور اپنے عمرہ میں اس طرح کرے جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2798]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1180 ترقیم شاملہ: -- 2799
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ يَعْنِي: جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ؟، قَالَ: أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ، وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ، فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ ".
عمرو بن دینار نے عطاء سے، انہوں نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، میں (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، اس (کے بدن) پر ٹکڑیوں والا (لباس)، یعنی جبہ تھا، وہ زعفران ملی خوشبو سے لت پت تھا۔ اس نے کہا: میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میرے جسم پر یہ لباس ہے اور میں نے خوشبو بھی لگائی ہے۔ (کیا یہ درست ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے حج میں کیا کرتے ہو؟“ اس نے کہا: میں یہ اپنے کپڑے اتار دیتا ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2799]
حضرت صفوان بن یعلیٰ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، ایک آدمی آیا اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا، وہ سلے ہوئے کپڑے یعنی جبہ پہنے ہوئے تھا اور وہ خُلوق سے لت پت تھا تو اس نے کہا، میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میں نے اسے پہنا ہوا ہے اور میں خوشبو سے بسا ہوا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تم حج میں کیا کرتے؟“ اس نے کہا: میں ان کپڑوں کو اتار دیتا اور اپنے آپ سے اس خوشبو (خُلوق) کو دھو ڈالتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جو کچھ تم حج کی حالت میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ کے لیے کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2799]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1180 ترقیم شاملہ: -- 2800
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ سَكَتَ فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ، يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا "، فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے انہیں خبر دی کہ یعلیٰ رضی اللہ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے: کاش! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ (ایک مرتبہ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھے، جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے خوشبو سے لت پت جبہ پہنا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگا کر جبے میں عمرے کا احرام باندھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا، پھر سکوت اختیار فرمایا تو (اس اثناء میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا، ادھر آؤ۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ آ گئے اور اپنا سر (چادر) میں داخل کر دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر بھاری بھاری سانس لیتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت دور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟“ آدمی کو تلاش کر کے حاضر کیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو اور یہ جبہ (لباس) اسے اتار دو، پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کرو جیسے تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2800]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے عطا کو بتایا، کہ یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے کہتے تھے کہ کاش میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے کا سایہ کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جن میں عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جو جبہ پہنے ہوئے تھا اور خوشبو سے لت پت تھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس انسان کے بارے میں کیا ارشاد ہے، جس نے عمرہ کا احرام ایک جبہ میں، خوشبو سے معطر ہو کر باندھا؟ کچھ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا، پھر خاموش ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ہاتھ سے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اشارہ سے کہا: آؤ تو یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ آ گئے اور اپنا سر (کپڑے کے) اندر داخل کر دیا، ناگہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ تھا، کچھ وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لیتے رہے پھر یہ کیفیت دور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں ہے وہ جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے بارے میں دریافت کیا تھا؟“ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خوشبو جو تیرے جسم پر ہے، اس کو تین دفعہ دھو ڈالو اور جبہ کو اتار دو، پھر اپنے عمرہ میں وہی کام کرو جو اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2800]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1180 ترقیم شاملہ: -- 2801
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى، فَقَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ ".
قیس، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں، وہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے، وہ اپنے والد (یعلیٰ رضی اللہ عنہ) سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، وہ عمرے کا احرام باندھ کر تلبیہ کہہ چکا تھا، اس نے اپنا سر اور اپنی داڑھی کو زرد رنگ سے رنگا ہوا تھا، اور اس (کے جسم) پر جبہ تھا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میں اس حالت میں ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو، اپنے آپ سے زرد رنگ کو دھو ڈالو اور جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی عمرے میں کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2801]
صفوان بن یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، اس نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، اس کے داڑھی اور سر کے بال زرد رنگ سے رنگے ہوئے تھے اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری حالت دیکھ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو اور اپنے سے زردی کو دھو ڈالو اور جو کچھ تم اپنے حج میں کرتے تو وہی اپنے عمرہ میں کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2801]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1180 ترقیم شاملہ: -- 2802
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، فَكَيْفَ أَفْعَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ، وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يُظِلُّهُ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ؟ "، فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ، وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلًا فِي حَجِّكَ ".
رباح بن ابی معروف نے ہم سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا، اس نے جبہ پہن رکھا تھا جس پر زعفران ملی خوشبو کے نشانات تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کس طرح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے آگے اوٹ کرتے، آپ پر سایہ کرتے۔ میں نے حضرت عمر سے کہا: میری خواہش ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو، میں بھی کپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا سر داخل کروں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کپڑے سے چھپا دیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کر دیا اور آپ کو (وحی کے نزول کی حالت میں) دیکھا۔ جب آپ کی وہ کیفیت زائل کر دی گئی تو فرمایا: ”ابھی عمرے کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ (اتنے میں) وہ شخص آپ کے پاس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو، اپنے جسم سے زعفران ملی خوشبو کا نشان دھو ڈالو اور عمرے میں وہی کرو جو تم نے حج میں کرنا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2802]
صفوان بن یعلیٰ بن امیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی جبہ پہنے ہوئے آیا، جس پر خلوق کا اثر تھا، اس نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے تو میں کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خاموش ہو گئے اور اسے کوئی جواب نہ دیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوٹ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کرتے تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا، میں چاہتا ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ سلم پر وحی کا نزول ہو تو میں آپ کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کروں تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کپڑے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کر دیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کیفیت زائل ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ آدمی آیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اپنے سے اتار دو اور تجھ پر جو خلوق کا اثر (نشان) ہے، اس کو دھو ڈالو اور اپنے عمرہ میں وہی کام کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2802]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة