🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب بيان وجوه الإحرام وانه يجوز إفراد الحج والتمتع والقران وجواز إدخال الحج على العمرة ومتى يحل القارن من نسكه:
باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1213 ترقیم شاملہ: -- 2937
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟، قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ "، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ "، قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ "، فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ، حَتَّى إِذَا طَهَرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا "، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ "، وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ،
قتیبہ نے کہا: ہم سے لیث نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلے حج (افراد) کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صرف عمرے کی نیت سے آئیں۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایام شروع ہو گئے حتیٰ کہ جب ہم مکہ آئے تو ہم نے کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کر لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کسی کے ہمراہ قربانی نہیں، وہ (احرام چھوڑ کر) حلت (عدم احرام کی حالت) اختیار کرلے۔ ہم نے پوچھا: کون سی حلت؟ آپ نے فرمایا: مکمل حلت (احرام کی تمام پابندیوں سے آزادی)۔ تو پھر ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگائی اور (معمول کے) کپڑے پہن لیے۔ (اور اس وقت) ہمارے اور عرفہ (کو روانگی) کے درمیان چار راتیں باقی تھیں۔ پھر ہم نے ترویہ والے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمے میں داخل ہوئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں۔ لوگ حلال (احرام سے فارغ) ہو چکے ہیں اور میں ابھی نہیں ہوئی اور نہ میں نے ابھی بیت اللہ کا طواف کیا ہے لوگ اب حج کے لیے روانہ ہو رہے ہیں آپ نے فرمایا: (پریشان مت ہو) یہ (حیض) ایسا معاملہ ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کی قسم میں لکھ دیا ہے تم غسل کر لو اور حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور وقوف کے ہر مقام پر وقوف کیا (حاضری دی دعائیں کیں) اور جب پاک ہو گئیں تو (عرفہ کے دن) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ پھر آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم اپنے حج اور عمرے دونوں (مکمل کر کے ان کے احرام کی پابندیوں) سے آزاد ہو چکی ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں (ہمیشہ) یہ کھٹکا رہے گا کہ میں حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی۔ آپ نے فرمایا: اے عبدالرحمان! انہیں (لے جاؤ اور) تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔ اور یہ (منیٰ سے واپسی پر) حصبہ (میں قیام والی) رات کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2937]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج مفرد کا احرام باندھ کر چلے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا احرام باندھ کر چلیں، حتیٰ کہ جب ہم سرف مقام پر پہنچ گئے تو انہیں حیض آنا شروع ہو گیا، حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جس کے پاس ہدی نہیں ہے، وہ احرام کھول دے، تو ہم نے پوچھا: حلال ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل حلت۔ تو ہم اپنی بیویوں کے پاس گئے، خوشبو لگائی اور اپنے کپڑے پہن لیے، ہمارے اور عرفہ کے درمیان چار دن باقی تھے، پھر ہم نے ترویہ کے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہیں روتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: میری حالت یہ ہے، میں حائضہ ہوں، لوگ احرام کھول چکے ہیں اور میں نے احرام نہیں کھولا اور نہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کے لیے جا رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کی فطرت میں رکھ دی ہے، تم غسل کر کے، حج کا احرام باندھ لو۔ تو میں نے ایسے ہی کیا اور تمام مقامات پر وقوف کیا (ٹھہری)، حتیٰ کہ جب پاک ہو گئی تو کعبہ اور صفا اور مروہ کا طواف کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئی ہو۔ تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے دل میں کھٹک محسوس کر رہی ہوں کہ میں حج سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، (حالانکہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن! اسے لے جاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرواؤ۔ اور یہ مَحصَب کی رات کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2937]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1213 ترقیم شاملہ: -- 2938
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْكِي "، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ،
ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے سنا، کہہ رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمے میں داخل ہوئے تو وہ رو رہی تھیں۔ پھر (آخر تک) لیث کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت بیان کی، لیکن لیث کی حدیث میں اس سے پہلے کا جو حصہ ہے وہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2938]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، جبکہ وہ رو رہی تھیں، آگے لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے، لیکن اس سے پہلے کا جو حصہ لیث نے بیان کیا ہے، وہ اس حدیث میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2938]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1213 ترقیم شاملہ: -- 2939
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتِ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ "، قَالَ مَطَرٌ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ كَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطر نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج (حجۃ الوداع) کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارا تھا۔ مطر نے آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، (البتہ اپنی) حدیث میں یہ اضافہ کیا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خو تھے۔ وہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) جب بھی کوئی خواہش کرتیں، آپ اس میں ان کی بات مان لیتے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور انہوں نے تنعیم سے عمرے کا تلبیہ پکارا (اور عمرہ ادا کیا)۔ مطر نے کہا: ابوزبیر نے بیان کیا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی حج فرماتیں تو وہی کرتیں جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2939]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھا تھا، آگے لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھیوں کے لیے آسانی چاہتے تھے، (نرم اخلاق کے مالک تھے) جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کسی چیز کی خواہش یا فرمائش کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات مان لیتے، (فرمائش پوری فرما دیتے) اس لیے، ان کے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیج دیا اور انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2939]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1213 ترقیم شاملہ: -- 2940
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ "، قَالَ: قُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ؟، قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ؟ "، قَالَ: فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ ".
زہیر اور ابوخیثمہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا: جس کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں وہ (احرام سے) آزاد ہو جائے۔ ہم نے دریافت کیا: کون سی آزادی (حلت)؟ آپ نے فرمایا: (احرام کی پابندیوں سے) پوری آزادی۔ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا:) ہم نے اپنی عورتوں سے قربت کی، اپنے (معمول کے) لباس پہنے اور خوشبو (کا بھی) استعمال کیا۔ جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن آیا ہم نے حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارنا شروع کیا اور ہمیں (حج قران کرنے والوں کو) صفا مروہ کے درمیان پہلا طواف (سعی مراد ہے) ہی کافی ہو گیا۔ (ہمیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) حکم دیا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی میں ہم سات سات افراد شریک ہو جائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2940]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں