🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب استحباب إدامة الحاج التلبية حتى يشرع في رمي جمرة العقبة يوم النحر:
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3091
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَنَحْنُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ".
ابوحوص نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب ہم مزدلفہ میں تھے۔ کہا: میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی، وہ اس مقام پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3091]
حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی الله تعالیٰ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے، اس مقام میں، میں نے اس شخصیت سے جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی، یہ کہتے سنا، (لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3091]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3092
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ: هَذَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "،
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ سے لوٹتے وقت تلبیہ کہا: تو کہا گیا: کیا یہ اعرابی (بدو) ہیں؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3092]
عبدالرحمٰن بن یزید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہما) نے مزدلفہ سے واپسی کے وقت تلبیہ پڑھا، تو کہا گیا، یہ کوئی جنگلی (بدوی) آدمی ہے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، کیا لوگ بھول گئے ہیں، یا راہ راست سے بھٹک گئے ہیں، جس شخصیت پر سورہ بقرہ اتری ہے، اس جگہ میں نے اس کو یہ کہتے سنا: (لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3093
وَحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سفیان نے ہمیں حصین سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3093]
امام صاحب نے اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3093]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3094
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
زیاد بکائی نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے۔ میں نے اس ہستی سے سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ آپ اسی جگہ «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انہوں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تلبیہ پکارا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3094]
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید رحمہ الله عليہما بیان کرتے ہیں، ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مزدلفہ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے یہاں اس شخصیت سے جس پر سورہ بقرہ اتری ہے، سنا، وہ کہہ رہے تھے: (لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْك) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں