صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ ذَاتِ الدِّينِ:
باب: دیندار سے نکاح کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1466 ترقیم شاملہ: -- 3635
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”عورت کے ساتھ چار باتوں کی بنا پر شادی کی جاتی ہے: اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب (ونسب) کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔ تم دین والی کے ساتھ (شادی کر کے) ظفر مند بنو (کامیابی حاصل کرو) تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ (یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ تم ہمیشہ کام کرتے رہو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3635]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار بنیادوں یا اسباب کی بنا پر عورت سے نکاح کیا جاتا ہے؛ اس کے مال کی بنا پر، اس کے حسب و خاندان کی بنا پر، اس کے حسن و جمال کی خاطر اور اس کی دین داری کے سبب، تم دین دار عورت سے شادی کر کے کامیابی حاصل کرو، «تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3635]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1466 ترقیم شاملہ: -- 3636
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " يَا جَابِرُ، تَزَوَّجْتَ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " بِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ "، قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ: " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: " فَذَاكَ إِذَنْ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى: دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ".
عطاء سے روایت ہے، کہا: مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی، میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے پوچھا: ”جابر! تم نے نکاح کر لیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کنواری ہے یا دوہاجو (شوہر دیدہ)؟“ میں نے عرض کی: دوہاجو۔ آپ نے فرمایا: ”باکرہ سے کیوں نہ کی، تم اس سے دل لگی کرتے؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بہنیں ہیں تو میں ڈرا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے گی، آپ نے فرمایا: ”پھر ٹھیک ہے، بلاشبہ کسی عورت سے شادی (میں رغبت) اس کے دین، مال اور خوبصورتی کی وجہ سے کی جاتی ہے، تم دین والی کو چنو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3636]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی، پھر میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے جابر! شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری ہے یا بیوہ؟“ میں نے کہا، شوہر دیدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا، اس سے اٹھکیلیاں کرتے؟“ میں نے عرض کیا، میری بہت سی ہمشیرگان ہیں، مجھے اندیشہ پیدا ہوا کہیں وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہی نہ ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب ٹھیک ہے۔“ کیونکہ ”عورت سے شادی اس کے دین، اس کے مال اور اس کے حسن و جمال کی خاطر کی جاتی ہے، تم دین دار کو لازم پکڑو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1466 ترقیم شاملہ: -- 3637
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا "، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى وَلِعَابِهَا؟ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فقَالَ: قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ، وَإِنَّمَا قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ.
شعبہ نے ہمیں محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”کنواری سے یا دوہاجو (ثیبہ) سے؟“ میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا: ”تم کنواریوں اور ان کی ملاعبت (باہم کھیل کود) سے (دور) کہاں رہ گئے؟“ شعبہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنی تھی اور انہوں نے کہا تھا: ”تم نے کنواری سے (شادی) کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3637]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے ایک عورت سے شادی کی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری لڑکیوں اور ان کی ملاعبت (ہنسی مذاق) سے کیوں غافل رہے؟“ شعبہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کو سنائی تو انہوں نے کہا: میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا تھا: ”دوشیزہ سے شادی کیوں نہ کی تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1466 ترقیم شاملہ: -- 3638
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ، أَوَ قَالَ: سَبْعَ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ، تَزَوَّجْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، أَوَ قَالَ: تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ، قَالَ: " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ "، أَوَ قَالَ: لِي خَيْرًا، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ: تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ،
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوربیع زہرانی نے ہمیں حدیث بیان کی، یحییٰ نے کہا: حماد بن زید نے ہمیں عمرو بن دینار سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو بیٹیاں۔۔ یا کہا: سات بیٹیاں۔۔ چھوڑیں تو میں نے ایک ثیبہ (دوہاجو) عورت سے نکاح کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”جابر! نکاح کر لیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”کنواری ہے یا دوہاجو؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! دوہاجو ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کنواری کیوں نہیں، تم اس سے دل لگی کرتے، وہ تم سے دل لگی کرتی۔۔ یا فرمایا: تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو۔۔ یا سات۔۔ بیٹیاں چھوڑیں، تو میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی اصلاح کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت دے!“ یا آپ نے میرے لیے خیر اور بھلائی کی دعا فرمائی۔ اور ابوربیع کی روایت میں ہے: ”تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3638]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد عبداللہ فوت ہو گئے اور نو یا سات بیٹیاں چھوڑ گئے تو میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی، اور مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے جابر! کیا تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کنواری ہے یا بیوہ؟“ میں نے عرض کیا: وہ تو بیوہ ہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوشیزہ سے شادی کیوں نہ کی؟ تو اس سے کھیلتا وہ تم سے کھیلتی“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے ہنستا مسکراتا وہ تم سے ہنستی مسکراتی۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: عبداللہ نے وفات کے وقت نو یا سات بیٹیاں چھوڑیں، اور میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ ان کے پاس ان جیسی نو عمر بیاہ لاؤں، اور اس بات کو پسند کیا کہ ان کے پاس ایسی عورت لاؤں جو ان کی خبر گیری اور اصلاح کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت دے۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے خیر کے کلمات کہے، ابو ربیع کی روایت میں ہے: ”تم اس سے کھیلتے، وہ تم سے کھیلتی، تم اس سے خوش طبعی کرتے وہ تم سے خوش مذاقی کرتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3638]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1466 ترقیم شاملہ: -- 3639
وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ، قَالَ: أَصَبْتَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
سفیان نے ہمیں عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟“ اور آگے یہاں تک بیان کیا: ایسی عورت جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی کنگھی کرے، آپ نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔“ اور انہوں نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3639]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اے جابر! تو نے نکاح کر لیا ہے؟“ لیکن روایت صرف یہاں تک بیان کی ہے۔ ایسی عورت لاؤں جو ان کی دیکھ بھال کرے اور انہیں کنگھی کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کام کیا۔“ بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3639]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1466 ترقیم شاملہ: -- 3640
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنْزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فقَالَ: " مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فقَالَ: " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ "، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فقَالَ: " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً، كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ "، قَالَ: وَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ.
شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے۔ جب ہم واپس ہوئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تھوڑا سا تیز کیا، میرے ساتھ پیچھے سے ایک سوار آ کر ملا انہوں نے لوہے کی نوک والی چھڑی سے جو ان کے ساتھ تھی، میرے اونٹ کو کچوکا لگایا، تو وہ اتنا تیز چلنے لگا جتنا آپ نے کسی بہترین اونٹ کو (تیز چلتے ہوئے) دیکھا، آپ نے پوچھا: ”جابر! تمہیں کس چیز نے جلدی میں ڈال رکھا ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپ نے پوچھا: ”باکرہ سے شادی کی ہے یا ثیبہ (دوہاجو) سے؟“ انہوں نے عرض کی: ثیبہ سے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے کسی (کنواری) لڑکی سے کیوں نہ کی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی؟“ کہا: جب ہم مدینہ آئے، (اس میں) داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، ہم رات۔۔ یعنی عشاء۔۔ کے وقت داخل ہوں، تاکہ پراگندہ بالوں والی بال سنوار لے اور جس جس کا شوہر غائب رہا، وہ بال (وغیرہ) صاف کر لے۔“ اور فرمایا: ”جب گھر پہنچنا تو عقل و تحمل سے کام لینا (حالت حیض میں جماع نہ کرنا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3640]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو جب ہم واپس آئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز کرنا چاہا، تو مجھے پیچھے سے ایک سوار ملا اور اس نے اپنی چھڑی سے اسے کچوکا لگایا تو میرا اونٹ انتہائی تیز رفتاری سے چلنے لگا، جتنا تیز رفتار اونٹ کبھی تم نے چلتے دیکھا ہو گا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے جابر! تمہیں تیزی کیوں ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بلکہ بیوہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوشیزہ سے کیوں نہ کی تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“ جب ہم مدینہ پہنچے اور گھروں میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جاؤ تاکہ ہم رات کو داخل ہوں، پراگندہ بال کنگھی کر سکے اور جس عورت کا خاوند گھر سے باہر ہے وہ زیرِ ناف بال صاف کر لے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گھر پہنچو، تو دانش مندی اور سمجھ داری سے کام لینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3640]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة